LIVE
Loading Breaking News...

صدر زرداری اور وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ملاقات، دہشت گردی کے خلاف سخت موقف

News Image
صدر مملکت آصف علی زرداری نے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کے ساتھ ملاقات میں صوبے میں ترقیاتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی دہشت گردوں کی کوششوں کو سختی سے ناکام بنانے کا اعادہ کیا ہے۔ ملاقات کے دوران بلوچستان کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال اور صوبے کی ترقی کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے اسلام آباد میں ایوانِ صدر کے دورے پر آئے ہوئے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی سے ملاقات کی، جس میں صوبے کی داخلی سیکیورٹی، امن و امان کی صورتحال اور جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس اہم ملاقات کے دوران صدر زرداری نے واضح کیا کہ بیرونی طاقتوں کی ایما پر کام کرنے والے دہشت گرد جو صوبے کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنا چاہتے ہیں، ان کے ناپاک عزائم کو ہر قیمت پر ناکام بنایا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ دن دور نہیں جب بلوچستان سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کر کے امن و امان کی مستقل بحالی کو یقینی بنایا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے صدر مملکت کو صوبے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔ صدر زرداری نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان، جو رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، خصوصی توجہ اور وسائل کا مستحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں پائیدار امن، ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان موثر رابطہ کاری ناگزیر ہے۔ اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کی خواتین ونگ کی صدر فریال تالپور اور بلوچستان کے سابق صوبائی وزیر میر علی حسن زہری بھی موجود تھے جنہوں نے بھی صوبے کی صورتحال پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بلوچستان میں انفراسٹرکچر اور قومی تنصیبات پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں کچھی کے علاقے بولان میں گیس پائپ لائن کو دھماکے سے اڑایا گیا، جبکہ ڈیرہ مراد جمالی میں اوچ پاور پلانٹ کے قریب ہائی وولٹیج ٹرانسمیشن ٹاورز کو نشانہ بنایا گیا، جس سے کوئٹہ سمیت بلوچستان کے کئی شہروں کو بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔ اس کے برعکس، سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں کرتے ہوئے زیارت، ہرنائی، سوراب اور خضدار سمیت مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران درجنوں دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ ماہ کے دوران بلوچستان میں سیکیورٹی کی صورتحال دیگر صوبوں کی نسبت زیادہ تشویشناک رہی ہے، جس میں دہشت گردانہ کارروائیوں اور ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تاہم، ریاستی ادارے اور صوبائی حکومت دہشت گردی کے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہیں۔ حکومتی حلقوں کا ماننا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کامیابیوں اور ترقیاتی کاموں میں تیزی لانے سے ہی بلوچستان میں پائیدار امن کا قیام ممکن ہے اور عوام کے معیار زندگی میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔