Technology
کائناتی ارتقاء کیا ہے؟ نئی سائنسی تھیوری کی تفصیلات
سائنسی حلقوں میں ایک نیا نظریہ زیر بحث ہے جس کے مطابق کائنات بھی حیاتیاتی ارتقاء کی طرح ایک ارتقائی عمل سے گزر سکتی ہے۔ اس نظریے کے تحت بلیک ہولز کو نئی کائناتوں کی پیدائش کا ذریعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
دنیا بھر کے سائنسدانوں نے ہمیشہ سے اس سوال پر غور کیا ہے کہ ہماری کائنات کا آغاز کیسے ہوا اور یہ کس طرح اپنے موجودہ شکل تک پہنچی۔ اب ایک منفرد سائنسی نظریہ، جسے 'کائناتی ارتقاء' کہا جاتا ہے، سائنسی حلقوں میں کافی دلچسپی کا باعث بن رہا ہے۔ اس نظریے کے حامیوں کا خیال ہے کہ جس طرح زمین پر جاندار ارتقاء کے عمل سے گزر کر ترقی کرتے ہیں، اسی طرح پوری کائنات بھی ایک طویل ارتقائی سفر کا حصہ ہو سکتی ہے۔ اگرچہ یہ نظریہ ابھی تک مکمل طور پر ثابت نہیں ہوا، لیکن محققین اس امکان کو رد نہیں کرتے کہ کائنات کی ساخت اور اس کا پھیلاؤ کسی منظم ارتقائی نظام کے تحت ہو سکتا ہے۔
اس دلچسپ تصور کی بنیاد 'بلیک ہولز' پر رکھی گئی ہے۔ کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ بلیک ہولز محض تباہی کا باعث نہیں بلکہ یہ ایک نئی کائنات کی پیدائش کا ذریعہ بھی ہو سکتے ہیں۔ اس نظریے کے مطابق، جب کسی کائنات میں ایک بلیک ہول بنتا ہے، تو اس کے اندر موجود انتہائی کثیف مادے سے ایک نئی کائنات جنم لے سکتی ہے۔ یہ عمل کسی حیاتیاتی افزائشِ نسل کی طرح ہے، جہاں ایک کائنات اپنے اندر دوسری کائناتوں کو جنم دے کر اپنی ارتقائی تاریخ کو آگے بڑھاتی ہے۔ اس طرح کے نظریات کائنات کے بارے میں ہماری روایتی سوچ کو چیلنج کرتے ہیں اور ہمیں یہ سمجھنے پر مجبور کرتے ہیں کہ ہم شاید ایک ایسی وسیع اور پیچیدہ زنجیر کا حصہ ہیں جس کا دائرہ کار ہماری تصور سے کہیں زیادہ ہے۔
ماہرین فلکیات اور نظریاتی ماہرین طبیعیات کا کہنا ہے کہ اگر کائناتیں بھی ارتقاء پذیر ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کائناتوں میں بھی 'انتخاب' (Selection) کا عمل کارفرما ہو سکتا ہے۔ جس طرح جاندار اپنے ماحول کے مطابق ڈھلتے ہیں، اسی طرح وہ کائناتیں جو خود کو بہتر انداز میں تشکیل دے پاتی ہیں، وہ طویل عرصے تک قائم رہتی ہیں اور مزید کائناتوں کو جنم دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اگرچہ اس نظریے کو ثابت کرنے کے لیے ٹھوس تجرباتی شواہد کی ضرورت ہے، لیکن ریاضیاتی ماڈلز اور کائناتی پس منظر کی ریڈی ایشن کے مطالعے سے اس پر مزید کام جاری ہے۔ یہ تحقیق ہمیں کائنات کی ماہیت، اس کے آغاز اور مستقبل کے بارے میں نئے دروازے کھولنے میں مدد دے سکتی ہے، جس سے انسانی شعور کی وسعتوں میں مزید اضافہ ہوگا۔