LIVE
Loading Breaking News...

خیبر پختونخوا ہیلپ لائن 1992 اور کمپلینٹ سیل کا قیام

News Image
خیبر پختونخوا حکومت نے عوام کی مشکلات کے فوری حل اور شکایات کے ازالے کے لیے باضابطہ طور پر ایک خصوصی کمپلینٹ سیل اور ہیلپ لائن 1992 قائم کر دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد سرکاری محکموں میں شفافیت لانا اور عوامی مسائل کا بروقت سدباب کرنا ہے۔
پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے بھر کے شہریوں کی شکایات کے فوری ازالے اور ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے باضابطہ طور پر خصوصی کمپلینٹ سیل اور ہیلپ لائن 1992 کا اجراء کر دیا ہے۔ اس نئے نظام کا بنیادی مقصد عوام اور حکومت کے درمیان فاصلوں کو کم کرنا اور سرکاری اداروں میں عوامی شنوائی کے عمل کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے شروع کی جانے والی اس سروس کے ذریعے اب عام شہری گھر بیٹھے اپنے مسائل سے متعلق شکایات درج کرا سکیں گے، جن پر متعلقہ محکمے فوری کارروائی کے پابند ہوں گے۔ اس ہیلپ لائن کے قیام کا فیصلہ صوبے میں گڈ گورننس کے فروغ اور عوامی خدمات کی فراہمی میں بہتری لانے کے وژن کے تحت کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ہیلپ لائن 1992 چوبیس گھنٹے فعال رہے گی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال یا شکایت کی صورت میں شہری فوری طور پر متعلقہ حکام سے رابطہ کر سکیں۔ کمپلینٹ سیل میں موصول ہونے والی ہر شکایت کا ایک باقاعدہ ریکارڈ رکھا جائے گا اور اس کی مانیٹرنگ اعلیٰ سطح پر کی جائے گی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ شکایات کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ اس نظام کے تحت تمام محکموں کوپابند کیا گیا ہے کہ وہ مقررہ وقت کے اندر اندر شہریوں کی شکایات کا ازالہ کریں اور اس کی رپورٹ ڈیش بورڈ پر جمع کرائیں۔ اس موقع پر سماجی حلقوں اور عوامی نمائندوں نے حکومت کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے سرکاری محکموں میں پائی جانے والی سرخ فیتے کی روایت ختم ہوگی اور عام آدمی کی دادرس بلا تاخیر ممکن ہو سکے گی۔ حکومت نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس نئے نظام سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور اپنی جائز شکایات کے اندراج کے لیے صرف ہیلپ لائن 1992 کا استعمال کریں تاکہ صوبے میں شفاف اور جوابدہ انتظامی کلچر کو فروغ دیا جا سکے۔