World
ایران کی جانب سے خلیجی ریاستوں کو امریکی تعاون پر سخت وارننگ
ایران کی مسلح افواج نے خلیجی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مدد فراہم کی تو اسے جارحیت تصور کیا جائے گا۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ خطے میں امریکی موجودگی اور مداخلت کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری موجودہ کشیدگی کے دوران ایران کی مسلح افواج نے ایک اہم بیان جاری کرتے ہوئے خلیجی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ امریکہ کو کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی یا ایران مخالف جارحیت میں تعاون فراہم نہ کریں۔ ایرانی حکام کی جانب سے جاری ہونے والے اس بیان میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ خطے کے ممالک کی جانب سے امریکی فوج کو اپنے ہوائی اڈوں یا بندرگاہوں کے استعمال کی اجازت دینا براہ راست ایران کے خلاف سمجھا جائے گا اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ یہ وارننگ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں امریکی فوجی موجودگی اور ایرانی مفادات کے درمیان محاذ آرائی کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے۔
تہران کا یہ سخت موقف ایسے حالات میں سامنے آیا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کسی بھی سمجھوتے یا جنگ بندی کی امیدوں کو مسترد کیا جا رہا ہے۔ ایرانی قیادت کا اصرار ہے کہ جنگ کا مکمل خاتمہ ہی واحد حل ہے اور تہران اس وقت کسی محدود جنگ بندی میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ ایرانی دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر کسی بھی جانب سے ایٹمی تنصیبات یا ایرانی سرزمین پر حملہ کیا گیا تو تہران اس کا بھرپور اور فوری جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں موجود امریکی اتحادیوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ وہ امریکہ کے مفادات کی خاطر اپنے امن و امان کو داؤ پر نہ لگائیں کیونکہ ایران کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب، عالمی میڈیا اور تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں سٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز میں ایران کا کنٹرول برقرار ہے اور تہران اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنی دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ سمجھتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایران کی یہ دھمکی خلیجی ریاستوں پر سفارتی دباؤ بڑھانے کی ایک کوشش ہے تاکہ وہ امریکی جارحانہ پالیسیوں سے خود کو دور رکھیں۔ تہران کا مطالبہ ہے کہ خطے میں امن کے لیے غیر ملکی فوجوں کا انخلاء ناگزیر ہے اور جب تک امریکہ کی جانب سے فوجی دباؤ برقرار رہے گا، ایران اپنے دفاعی موقف میں کوئی لچک نہیں دکھائے گا۔ اس صورتحال نے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی چین اور علاقائی استحکام کے حوالے سے شدید خدشات کو جنم دیا ہے جبکہ سفارتی سطح پر کوئی واضح حل تاحال نظر نہیں آ رہا۔