Business
ڈیزل کی قیمتوں میں بڑی کمی، حکومت کا ریفائنریز کے ساتھ معاہدہ
آئل ریفائنریز نے ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے فی لیٹر تک نمایاں کمی کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ حکومت اس اقدام کو عوام کے لیے ایک بڑے ریلیف کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
پاکستان میں جاری مہنگائی کے دوران عوام کے لیے ایک بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے جہاں آئل ریفائنریز نے ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 32 روپے تک کی نمایاں کمی کرنے پر اصولی اتفاق کر لیا ہے۔ حکومت کے اعلیٰ حکام اور آئل ریفائنریز کے نمائندوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد یہ اہم فیصلہ سامنے آیا ہے، جس کا مقصد عام آدمی پر پٹرولیم مصنوعات کے بوجھ کو کم کرنا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس فیصلے پر عمل درآمد کے بعد ملک بھر میں ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
اس پیش رفت کے حوالے سے سرکاری سطح پر بیان دیتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ موجودہ معاشی صورتحال میں عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اگرچہ حال ہی میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ردوبدل کیا گیا تھا جس کے بعد عوام کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی تھی، تاہم اب ریفائنریز کے ساتھ ہونے والے اس معاہدے کو ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیزل کی قیمت میں اس بڑی کمی سے اشیائے خوردونوش کی ترسیل کے اخراجات میں بھی کمی آئے گی جس سے براہ راست صارفین کو فائدہ پہنچے گا۔
دوسری جانب سیاسی حلقوں اور عوامی تنظیموں کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر مستقل نظر رکھنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی سمیت کئی حلقوں نے حکومت کی پٹرولیم قیمتوں کے تعین کی پالیسی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک براہ راست پہنچنا چاہیے۔ حکومت کا موقف ہے کہ ریفائنریز کے ساتھ یہ نیا معاہدہ نہ صرف قیمتوں کو مستحکم رکھے گا بلکہ آئندہ آنے والے دنوں میں عوام کو مہنگائی کے ایک اور جھٹکے سے محفوظ رکھے گا۔
فی الحال عوام اس فیصلے پر عمل درآمد کے منتظر ہیں تاکہ ایندھن کی قیمتوں میں کمی کے ثمرات دیکھ سکیں۔ حکومت کی جانب سے اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ تمام تر قانونی اور تکنیکی مراحل جلد مکمل کر لیے جائیں گے تاکہ ریفائنریز کی جانب سے دی جانے والی یہ رعایت فوری طور پر عوام کو منتقل کی جا سکے۔ یہ اقدام پاکستان کی توانائی کی قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے، جس سے معیشت پر پڑنے والے دباؤ میں کسی حد تک کمی واقع ہوگی۔