World
عالمی سطح پر امدادی کارکنوں پر حملوں میں ریکارڈ اضافہ، اقوام متحدہ کی تشویش
اقوام متحدہ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں دنیا بھر میں انسانیت کی خدمت کرنے والے امدادی کارکنوں پر حملوں کی تعداد تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ غزہ سمیت دیگر تنازعات والے علاقوں میں امدادی کارکنوں کی سیکیورٹی کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے۔
اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ ایک تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سال 2025 انسانیت کی خدمت پر مامور کارکنوں کے لیے تاریخ کا سب سے خطرناک سال ثابت ہوا ہے۔ دنیا بھر کے تنازعات زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف افراد کو ریکارڈ سطح پر حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ حملے نہ صرف ان کارکنوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں بلکہ ان کی امدادی کارروائیوں میں بھی بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں جس سے ضرورت مندوں تک رسائی مشکل ہو گئی ہے۔
اس حوالے سے سب سے زیادہ تشویشناک صورتحال غزہ کی ہے، جہاں امدادی کارکنوں کے لیے کام کرنا مسلسل تیسرے سال دنیا کا خطرناک ترین مقام بن چکا ہے۔ ڈرونز ٹیکنالوجی کے استعمال اور جنگی حکمت عملیوں میں آنے والی تبدیلیوں نے امدادی کارکنوں کے تحفظ کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس (ICRC) اور دیگر تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ انسانی ہمدردی کے تحت کام کرنے والوں پر حملوں کو معمول سمجھنے کا رویہ کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ یہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
یورپی کمیشن اور اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ امدادی کارکنوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ بڑھتی ہوئی عالمی انسانی ضروریات کے پیش نظر یہ امر انتہائی ضروری ہے کہ جو لوگ جان جوکھم میں ڈال کر دوسروں کی مدد کر رہے ہیں، انہیں جنگی کارروائیوں سے دور رکھا جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر ان حملوں کو روکنے کے لیے سخت قوانین کا اطلاق نہیں کیا گیا تو مستقبل میں انسانی ہمدردی کے مشنز کا تسلسل برقرار رکھنا ناممکن ہو جائے گا۔
مستقبل کے حوالے سے یہ رپورٹ ایک الارم کی حیثیت رکھتی ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ تمام متحارب فریقین انسانی حقوق کے اصولوں کا احترام کریں۔ ڈرون اور جدید جنگی آلات کے پھیلاؤ کے ساتھ، امدادی کارکنوں کی حفاظت کے لیے نئی حکمت عملیوں کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ ان واقعات کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے احتساب کے لیے عالمی سطح پر دباؤ ڈالنا جاری رکھے گی تاکہ انسانیت کی خدمت کرنے والوں کا حوصلہ پست نہ ہو۔