LIVE
Loading Breaking News...

امریکی اسٹاک مارکیٹ میں تیزی، بانڈ مارکیٹ پر دباؤ میں کمی

News Image
امریکی ٹریژری کی جانب سے قرضوں کی واپسی کے حجم میں اضافے کے بعد بانڈ مارکیٹ پر دباؤ میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس مثبت پیش رفت کے نتیجے میں عالمی اسٹاک مارکیٹ کے فیوچرز میں تیزی دیکھی گئی ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں اس وقت نئی لہر دوڑ گئی ہے جب امریکی ٹریژری کی جانب سے قرضوں کی واپسی کے عمل کو تیز کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد طویل عرصے سے بانڈ مارکیٹ پر قائم شدید دباؤ کو کم کرنا ہے، جس کے بعد سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ ٹریژری کی جانب سے ڈیٹ بائے بیکس (debt buybacks) کے حجم کو دگنا کرنے کا فیصلہ مارکیٹ کے لیے ایک اہم خوش آئند خبر ثابت ہوا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر بانڈ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور منافع کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس پیش رفت کا براہِ راست اثر امریکی اسٹاک فیوچرز پر پڑا ہے جو تیزی سے اوپر کی طرف گامزن ہیں۔ ماہرین معاشیات کا ماننا ہے کہ ٹریژری سیکریٹری اسکاٹ بیسنٹ کی جانب سے مارکیٹ کو مستحکم کرنے کے لیے اٹھائے گئے یہ اقدامات بروقت ہیں۔ مارکیٹ میں آنے والی اس تیزی میں ٹیکنالوجی کے شعبے سے منسلک کمپنیوں کے حصص بھی نمایاں رہے ہیں، خاص طور پر مارویل (Marvell) جیسی کمپنیوں کے اسٹاکس میں تیزی देखी گئی ہے جس نے سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ عالمی بانڈ مارکیٹ میں حالیہ ریلی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکی مالیاتی پالیسی میں کی جانے والی تبدیلیاں سرمایہ کاروں کے تحفظ کے لیے کافی موثر ہیں۔ اگرچہ عالمی معاشی منظر نامے میں اب بھی کچھ خدشات موجود ہیں، تاہم بانڈ کی پیداوار (yields) میں کمی اور ٹریژری کی مداخلت نے فی الحال منڈیوں میں افرا تفری کو ختم کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر آنے والے دنوں میں بھی بانڈ کی قیمتیں اسی طرح مستحکم رہیں تو امریکی اسٹاک مارکیٹ مزید بلندیوں کو چھو سکتی ہے، جو کہ عالمی معاشی استحکام کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔