World
یوکرین میں جنگی انتخابات کا مطالبہ اور سیاسی صورتحال
یوکرین کے سابق وزیر دفاع مائیکلو فیڈروف نے جنگ کے دوران ملک میں انتخابات کروانے کی تجویز دی ہے۔ انہوں نے اس بات کا کوئی ٹھوس طریقہ کار نہیں بتایا کہ موجودہ ہنگامی صورتحال میں یہ عمل کیسے ممکن ہوگا۔
یوکرین کے سابق وزیر دفاع مائیکلو فیڈروف نے ایک ایسے وقت میں عام انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کیا ہے جب ملک گزشتہ دو سال سے زائد عرصے سے روس کے ساتھ شدید جنگ میں مصروف ہے۔ ان کا یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین کی سیاسی قیادت جنگی حکمت عملی اور داخلی استحکام کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم، فیڈروف نے اپنی اس تجویز میں اس بات کا کوئی واضح جواب نہیں دیا کہ انتہائی پرخطر اور غیر یقینی جنگی حالات کے دوران، جہاں لاکھوں شہری بے گھر ہیں اور بنیادی ڈھانچہ تباہ حال ہے، انتخابات کا شفاف انعقاد کس طرح ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
بین الاقوامی تجزیہ کاروں اور یوکرین کے مقامی مبصرین کا ماننا ہے کہ جنگی حالات میں انتخابات کروانا نہ صرف لاجسٹک لحاظ سے ایک ناممکن چیلنج ہے بلکہ یہ ملکی سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔ روسی فوج کی جانب سے مسلسل گولہ باری اور فضائی حملوں کے پیش نظر پولنگ اسٹیشنوں کا قیام اور ووٹرز کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اس کے علاوہ، ملک کے مختلف علاقوں میں جاری ہنگامی حالت کے باعث سیاسی سرگرمیوں پر پابندی اور میڈیا کی محدود رسائی بھی جمہوری عمل کو متاثر کرنے والے اہم عوامل ہیں۔
مائیکلو فیڈروف کی جانب سے یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب یوکرین کو نہ صرف محاذ جنگ پر سخت چیلنجز کا سامنا ہے بلکہ مغربی ممالک کی جانب سے ملنے والی امداد کے تسلسل پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے مطالبات سے ملک میں اندرونی انتشار پیدا ہو سکتا ہے جو کہ براہ راست دشمن کے مفاد میں ہوگا۔ یوکرینی حکومت کی جانب سے فی الحال اس معاملے پر کوئی حتمی مؤقف سامنے نہیں آیا، لیکن یہ بحث اب عوامی سطح پر شدت اختیار کر رہی ہے کہ آیا جمہوری تقاضوں کو پورا کرنا جنگی بقا سے زیادہ اہم ہے یا نہیں۔
آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یوکرین کی پارلیمنٹ اور صدر ولادیمیر زیلنسکی کی انتظامیہ اس مطالبے کو سنجیدگی سے لیتے ہیں یا اسے موجودہ نازک صورتحال میں ایک غیر ضروری سیاسی اقدام قرار دے کر مسترد کر دیا جاتا ہے۔ فی الحال، یوکرین کا تمام تر فوکس اپنی سرحدوں کے دفاع اور عالمی سفارتی حمایت کو برقرار رکھنے پر مرکوز ہے، جس کی وجہ سے انتخابی عمل کا انعقاد فی الحال دور کی کوڑی معلوم ہوتا ہے۔