LIVE
Loading Breaking News...

مراکش: نابالغ سے زیادتی پر برطانوی ایتھلیٹکس کوچ کو سزا

News Image
برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ایتھلیٹکس کوچ لیون بیپٹسٹ کو مراکش کی عدالت نے نابالغ بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں مجرم قرار دیتے ہوئے 10 ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔ اس واقعے نے کھیلوں کی دنیا میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور عدالتی کارروائی کے بعد ملزم کو سزا کا حکم دیا گیا۔
مراکش کی عدالت نے ایک اہم عدالتی فیصلے میں برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ایتھلیٹکس کوچ لیون بیپٹسٹ کو نابالغ بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے 10 ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔ اس مقدمے نے کھیلوں کی دنیا اور خاص طور پر ایتھلیٹکس کے حلقوں میں شدید حیرت اور صدمے کی فضا پیدا کر دی ہے۔ لیون بیپٹسٹ، جو کہ ایتھلیٹکس کی تربیت کے شعبے میں ایک جانی پہچانی شخصیت سمجھے جاتے تھے، اس گھنونی حرکت کے بعد قانونی گرفت میں آ گئے ہیں۔ واقعے کی تفصیلات کے مطابق، لیون بیپٹسٹ پر الزام تھا کہ انہوں نے مراکش میں قیام کے دوران ایک نابالغ بچے کو ہراساں کیا اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ مقامی حکام نے شکایت موصول ہونے کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا، جس کے دوران شواہد کی بنیاد پر کوچ کو حراست میں لیا گیا تھا۔ طویل قانونی کارروائی اور شواہد کے جائزے کے بعد، مراکش کی عدالت نے ملزم کو جرم ثابت ہونے پر 10 ماہ کی قید کی سزا کا حکم دیا۔ اس فیصلے پر برطانوی حکام اور کھیلوں کی تنظیموں کی جانب سے بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ایتھلیٹکس کی دنیا میں اس طرح کے واقعات کوچز اور ٹرینرز کے اخلاقی کردار پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔ لیون بیپٹسٹ کا شمار ان کوچز میں ہوتا تھا جنہوں نے کئی کھلاڑیوں کی تربیت میں اہم کردار ادا کیا، تاہم اس واقعے نے ان کے کیریئر کو ایک سیاہ داغ لگا دیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں نے اس سزا کو انصاف کی جانب ایک قدم قرار دیا ہے، جبکہ اس طرح کے جرائم کے خلاف عالمی سطح پر سخت قوانین کے نفاذ کا مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے۔ فی الحال، ملزم اپنی سزا کاٹ رہا ہے جبکہ اس واقعے کے بعد کھیلوں کی عالمی تنظیموں کی جانب سے مزید تحقیقات اور اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے حفاظتی اقدامات سخت کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ والدین اور ایتھلیٹکس کمیونٹی اس واقعے کے بعد سے شدید صدمے میں ہے اور انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کھلاڑیوں کی تربیت کے لیے ذمہ دار افراد کی کڑی نگرانی کی جانی چاہیے تاکہ مستقبل میں کسی بھی نابالغ بچے کو اس طرح کے حالات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔