LIVE
Loading Breaking News...

ہند رجب قتل کیس: اسرائیلی فوج کی جانب سے تحقیقات کا اعلان

News Image
اسرائیلی فوج نے بالآخر چھ سالہ بچی ہند رجب کی گاڑی پر فائرنگ کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ یہ واقعہ غزہ میں جاری انسانی المیے کی ایک علامت بن چکا ہے جس نے عالمی برادری کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
اسرائیلی فوج نے بالآخر چھ سالہ فلسطینی بچی ہند رجب کی گاڑی پر فائرنگ کا اعتراف کر لیا ہے، جس کے بعد اس ہولناک واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک فوجداری کارروائی شروع کی گئی ہے۔ ہند رجب کی موت کا واقعہ غزہ میں جاری جنگ کے دوران پیش آنے والے سب سے زیادہ المناک واقعات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، جس نے دنیا بھر میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی برادری کو شدید غم و غصے میں مبتلا کر دیا تھا۔ ہند رجب اس گاڑی میں موجود تھی جس پر اسرائیلی فورسز کی جانب سے فائرنگ کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں گاڑی میں موجود دیگر افراد سمیت بچی بھی جاں بحق ہو گئی تھی۔ طویل عرصے تک اسرائیلی فوج اس معاملے پر خاموش رہی یا شواہد کو مسترد کرتی رہی، تاہم عالمی دباؤ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے مسلسل تحقیقات کے مطالبے کے بعد اسرائیلی ملٹری ایڈوکیٹ جنرل نے اس واقعے پر تحقیقات شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ تحقیقات یہ تعین کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں کہ آیا اس واقعے کے دوران فوج کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی گئی تھی یا نہیں۔ اگرچہ اس اقدام کو دیر آید درست آید کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، لیکن متاثرہ خاندان اور عالمی مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ تحقیقات ایک طویل قانونی عمل کے بعد شروع ہوئی ہیں جس میں انصاف کا حصول ابھی باقی ہے۔ واضح رہے کہ ہند رجب کا واقعہ اس وقت منظر عام پر آیا تھا جب ایک ٹیلی فون کال ریکارڈنگ سامنے آئی تھی جس میں بچی نے اپنی جان بچانے کے لیے فریاد کی تھی، یہ کال غزہ میں جاری انسانی المیے کی ایک دردناک علامت بن گئی تھی۔ ایمبولینس کے عملے کو بھی اس بچی تک پہنچنے کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا اور بعد ازاں ان کی بھی ہلاکت کی تصدیق ہوئی تھی۔ اب جبکہ اسرائیلی فوج نے باضابطہ طور پر تحقیقات کا اعلان کیا ہے، تو انسانی حقوق کے کارکنان اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اس واقعے کے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے اور جنگی جرائم کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔