Pakistan
کشمیر پر امریکی سفیر کا بیان: پاکستان کا واشنگٹن کے سامنے سخت احتجاج
پاکستان نے بھارت میں تعینات امریکی سفیر کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دینے والے بیان پر سخت احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ بیان حقائق کے منافی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
اسلام آباد میں دفتر خارجہ نے بدھ کے روز بھارت میں تعینات امریکی سفیر کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے دورے کے دوران دیے گئے حقائق کے منافی بیانات پر امریکی ناظم الامور کو طلب کر کے ایک سخت احتجاجی مراسلہ (ڈیمارش) جاری کیا ہے۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان، جموں و کشمیر کو 'بھارت کا حصہ' قرار دینے والے بیان کی نہ صرف شدید مذمت کرتا ہے بلکہ اسے سختی سے مسترد بھی کرتا ہے۔ حکومت پاکستان نے امریکی سفیر کے اس بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ موقف زمینی حقائق کے یکسر برعکس ہے۔
پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے جس کا حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا باقی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی سفیر کا یہ بیان نہ صرف جموں و کشمیر تنازعہ پر امریکہ کے طویل عرصے سے قائم اور دستاویزی موقف کی نفی کرتا ہے، بلکہ یہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی بالادستی کے حوالے سے امریکی وعدوں کے بھی منافی ہے۔ اسلام آباد نے باور کرایا ہے کہ ایسے بیانات خطے میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
دفتر خارجہ نے یاد دلایا کہ ماضی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ثالثی کی پیشکش کا پاکستان نے خیرمقدم کیا تھا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی برادری اس تنازعہ کی اہمیت کو سمجھتی ہے۔ حکومت پاکستان نے امریکی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے عوامی بیانات جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت کے مطابق ہوں اور ان میں بین الاقوامی اصولوں کا پاس رکھا جائے۔ یہ اقدام پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اس اصول کا اعادہ ہے کہ کشمیر پر پاکستان کا موقف اٹل ہے اور اس پر کسی بھی قسم کی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
اس صورتحال کے پیش نظر دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والا سخت احتجاجی نوٹس عالمی برادری کے لیے ایک پیغام ہے کہ پاکستان کشمیر کے مسئلے پر اپنی سفارتی جدوجہد جاری رکھے گا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر اپنا موقف واضح کرے تاکہ دو طرفہ تعلقات اور خطے کے استحکام پر منفی اثرات نہ پڑیں۔