World
پرنس ہری عدالت میں جذباتی، میگھن مارکل کے دفاع میں روپڑے
برطانوی شہزادہ ہری پریس کی مداخلت کے خلاف اہلیہ میگھن مارکل کا دفاع کرتے ہوئے عدالت میں جذباتی ہو کر روپڑے۔ انہوں نے میڈیا کے جارحانہ رویے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
برطانوی شاہی خاندان کے چشم و چراغ پرنس ہری عدالت میں اپنی اہلیہ میگھن مارکل کے حقوق کا دفاع کرتے ہوئے جذباتی ہوگئے اور عدالت کے اندر ہی آبدیدہ نظر آئے۔ یہ واقعہ برطانوی میڈیا اور پریس کی جانب سے کی جانے والی مبینہ جارحانہ مداخلت اور ذاتی زندگی میں تاک جھانک کے خلاف قانونی جنگ کے دوران پیش آیا۔ پرنس ہری نے عدالت میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے میڈیا کے ہتھکنڈوں پر کڑی تنقید کی اور بتایا کہ کس طرح اس مسلسل تعاقب نے ان کے خاندان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا تھا۔
پرنس ہری نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ وہ اپنی اہلیہ میگھن مارکل اور اپنے بچوں کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پریس کی بے جا مداخلت اور جھوٹی خبروں نے نہ صرف ان کی ذاتی زندگی کو متاثر کیا بلکہ ان کی ذہنی صحت پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ عدالت میں اس حساس لمحے کے دوران وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے، جس نے وہاں موجود تمام افراد کی توجہ مبذول کرلی اور اس قانونی لڑائی کی سنگینی کو مزید اجاگر کیا۔
میڈیا ہاؤسز کے خلاف یہ مقدمہ برطانوی تاریخ میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے جہاں شاہی خاندان کا کوئی فرد اتنی واضح اور سخت قانونی چارہ جوئی کر رہا ہے۔ پرنس ہری طویل عرصے سے برطانوی پریس کے مخصوص حصوں کے خلاف آواز اٹھاتے آئے ہیں اور ان کا مؤقف رہا ہے کہ ان کی والدہ پرنسس ڈیانا کی طرح ان کی اہلیہ کو بھی اسی قسم کے جارحانہ رویے کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ عدالتی کارروائی شاہی خاندان اور میڈیا کے درمیان تعلقات میں ایک نیا باب رقم کر رہی ہے۔