LIVE
Loading Breaking News...

معدے کے کینسر سے بچاؤ اور میٹھے مشروبات کے نقصانات

News Image
ایک حالیہ طبی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ میٹھے مشروبات کا کثرت سے استعمال معدے کے کینسر کے خطرات کو کئی گنا بڑھا سکتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ چینی سے بھرپور مشروبات کی مقدار کو کم کرنا صحت کے لیے ناگزیر ہے۔
جدید طبی سائنس کی جانب سے کی گئی ایک وسیع و عریض تحقیق میں یہ تشویشناک انکشاف ہوا ہے کہ میٹھے مشروبات کا کثرت سے استعمال براہ راست انسانی معدے کے کینسر کے خطرات میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ اس تحقیقی مطالعے میں ہزاروں افراد کے طرز زندگی اور ان کی خوراک کے معمولات کا گہرائی سے جائزہ لیا گیا، جس کے نتائج سے یہ ثابت ہوا کہ جو لوگ باقاعدگی کے ساتھ چینی اور مصنوعی مٹھاس سے بھرپور مشروبات کا استعمال کرتے ہیں، ان میں معدے کے کینسر کے لاحق ہونے کے امکانات ان لوگوں کی نسبت دوگنا ہوتے ہیں جو اس قسم کے مشروبات سے اجتناب کرتے ہیں۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ میٹھے مشروبات میں موجود کیلوریز اور چینی کی بھاری مقدار انسانی جسم کے اندرونی اعضاء پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ جب ہم زیادہ چینی کا استعمال کرتے ہیں، تو یہ جسم میں انسولین کی سطح کو غیر متوازن کر دیتی ہے اور دائمی سوزش (chronic inflammation) کا باعث بنتی ہے۔ یہ سوزش طویل مدت میں خلیات کی غیر معمولی نشوونما کا سبب بن سکتی ہے، جو بعد ازاں کینسر جیسے مہلک مرض میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ ماہرینِ صحت کے مطابق معدے کا کینسر عالمی سطح پر ایک بڑی وجہِ اموات بن رہا ہے اور اس کی روک تھام کے لیے طرز زندگی میں تبدیلیاں لانا انتہائی ضروری ہے۔ مزید برآں، تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ صرف کاربونیٹڈ مشروبات ہی نہیں بلکہ ہر وہ ڈرنک جس میں چینی کی مقدار مقررہ حد سے زیادہ ہو، جسمانی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ طبی ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی روزمرہ کی خوراک سے سوفٹ ڈرنکس، انرجی ڈرنکس اور چینی سے تیار کردہ مصنوعی جوسز کو نکال کر ان کی جگہ پانی، قدرتی پھلوں کے رس اور صحت بخش مشروبات کو شامل کریں۔ یہ چھوٹی سی تبدیلی نہ صرف کینسر کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے بلکہ موٹاپے اور ذیابیطس جیسے دیگر امراض سے بھی تحفظ فراہم کرتی ہے۔ اس تحقیق کے نتائج عالمی ادارہ صحت اور دیگر طبی اداروں کے لیے ایک انتباہ ہیں کہ چینی کی کھپت کو محدود کرنے کے لیے پالیسی سازی کی جائے۔ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ غذائی عادات میں بہتری لانا ہی کینسر جیسے مہلک امراض سے بچاؤ کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ اپنی صحت کے بارے میں زیادہ باشعور ہوں اور میٹھے مشروبات سے دوری اختیار کرتے ہوئے ایک صحت مند طرز زندگی کا انتخاب کریں۔