World
امریکہ اور سعودی عرب کے عراق میں ایران نواز ملیشیا پر فضائی حملے
امریکی اور سعودی فورسز نے حالیہ حملوں کے جواب میں عراق میں ایران کے حامی عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔ اس کارروائی کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے جبکہ عراقی حکومت نے اسے ملکی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
واشنگٹن اور ریاض کی مشترکہ دفاعی حکمت عملی کے تحت امریکی اور سعودی عسکری دستوں نے عراق کے اندر موجود ایران نواز عسکریت پسند گروہوں کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق یہ فوجی کارروائی حالیہ دنوں میں خطے میں اتحادی فورسز پر ہونے والے پے در پے حملوں کے جواب میں کی گئی ہے، جس کا مقصد دہشت گرد عناصر کو کمزور کرنا اور اتحادی تنصیبات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ان حملوں میں مخصوص ملیشیا کے تربیتی مراکز اور لاجسٹک اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔دوسری جانب، ع عراق کی جانب سے ان فضائی حملوں پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ عراقی حکومت نے ان کارروائیوں کو ملکی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بغداد کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی یکطرفہ عسکری کارروائیاں خطے کے امن کو داؤ پر لگا رہی ہیں اور ملک کے اندر سلامتی کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ عراقی حکام نے اس معاملے پر سفارتی سطح پر احتجاج کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔اس صورتحال کے پیش نظر خطے میں سیاسی اور عسکری ہلچل عروج پر پہنچ گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، سعودی وزیر دفاع نے ان حملوں کے فوری بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایک اہم اور ہنگامی ملاقات کی ہے جس میں خطے کی موجودہ سلامتی کی صورتحال اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس مشترکہ کارروائی کے بعد مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن متاثر ہو سکتا ہے اور ایران اور مغربی اتحادیوں کے درمیان کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ کا خدشہ ہے۔