LIVE
Loading Breaking News...

نیو اسکیل پاور کے مالیاتی نتائج اور شیئر سیل کا اعلان

News Image
نیو اسکیل پاور نے مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں صرف 75 ہزار ڈالر کی معمولی آمدنی رپورٹ کی ہے۔ کمپنی نے 750 ملین ڈالر مالیت کے نئے حصص فروخت کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
نیو اسکیل پاور (NuScale Power) کو حالیہ مالیاتی رپورٹ کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں شدید دباؤ کا سامنا ہے، جہاں کمپنی کے حصص کی قیمت میں 6 فیصد کی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ دوسری سہ ماہی کی مالیاتی تفصیلات کے مطابق، اس عرصے کے دوران ریونیو محض 75 ہزار ڈالر تک محدود رہا، جو سرمایہ کاروں کی توقعات سے انتہائی کم ہے۔ اس کمزور مالیاتی کارکردگی نے نیو اسکیل پاور کے مستقبل کے حوالے سے شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے، جس کے نتیجے میں سال کے آغاز سے اب تک کمپنی کے اسٹاک میں مجموعی طور پر 35 فیصد سے زائد کی گراوٹ آ چکی ہے۔ کمپنی نے ان مالیاتی چیلنجز کے درمیان 750 ملین ڈالر مالیت کے نئے حصص فروخت کرنے کا اعلان بھی کیا ہے، جس کا مقصد ممکنہ طور پر ورکنگ کیپیٹل کو بہتر بنانا اور اپنے جاری نیوکلیر پروجیکٹس کو فنڈ فراہم کرنا ہے۔ تاہم، مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اضافی حصص کی پیشکش سے موجودہ شیئر ہولڈرز کے حصص کی قدر میں مزید کمی (ڈائیلوشن) کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اپنانا شروع کر دیا ہے۔ نیوکلیئر انرجی کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں کے لیے یہ ایک مشکل وقت ہے کیونکہ بڑھتے ہوئے اخراجات اور طویل مدتی منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر کمپنی کی مالی صحت پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ مارکیٹ کے ماہرین اب اس بات پر تقسیم ہیں کہ آیا نیو اسکیل پاور اپنے طویل مدتی اہداف کو حاصل کر سکے گی یا نہیں۔ نیوکلیر ٹیکنالوجی کے شعبے میں ریونیو جنریشن کا عمل سست ہے اور کمپنی کے پاس فی الحال آمدنی کے ذرائع انتہائی محدود ہیں۔ سرمایہ کار اب کمپنی کی جانب سے مستقبل کے لیے جاری کردہ روڈ میپ اور آنے والی سہ ماہیوں میں ریونیو بڑھانے کی حکمت عملی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ توانائی کے جدید منصوبوں میں سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ مالی استحکام کو برقرار رکھنا کتنا ضروری ہے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید مارکیٹ پریشر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔