Sports
ای ایس پی این کے بانی بل راسموسن کا انتقال، اسپورٹس براڈکاسٹنگ کا ایک باب بند
اسپورٹس میڈیا کی دنیا میں انقلاب برپا کرنے والے ای ایس پی این کے بانی بل راسموسن 93 برس کی عمر میں چل بسے۔ انہوں نے 24 گھنٹے اسپورٹس کوریج کا تصور پیش کرکے براڈکاسٹنگ کی تاریخ بدل دی تھی۔
اسپورٹس میڈیا کی دنیا کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کرنے والے نامور کاروباری شخصیت اور ای ایس پی این (ESPN) کے بانی بل راسموسن 93 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ نیٹ ورک کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں ان کے انتقال کی تصدیق کی گئی، جس سے کھیل کی دنیا میں ایک بڑے عہد کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ بل راسموسن کو جدید اسپورٹس براڈکاسٹنگ کا بانی مانا جاتا ہے جنہوں نے ٹیلی ویژن پر کھیلوں کے مواد کو پیش کرنے کے انداز کو یکسر بدل کر رکھ دیا تھا۔
بل راسموسن کا سب سے بڑا کارنامہ 24 گھنٹے اسپورٹس نیٹ ورک کے تصور کو عملی جامہ پہنانا تھا۔ 1979 میں انہوں نے اپنے بیٹے اسکاٹ راسموسن کے ہمراہ اس خواب کو حقیقت میں بدلا جس نے آگے چل کر عالمی سطح پر اسپورٹس میڈیا کے لیے ایک معیار قائم کیا۔ اس سے قبل کھیلوں کی نشریات صرف اہم ایونٹس تک محدود تھیں، تاہم راسموسن کی سوچ نے ناظرین کے لیے کھیلوں کی دنیا کو دن کے 24 گھنٹے اور ہفتے کے ساتوں دن دستیاب بنایا، جس سے عالمی سطح پر کھیلوں کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوا۔
ان کے انتقال کی خبر سنتے ہی اسپورٹس براڈکاسٹنگ اور صحافت کے حلقوں میں افسوس کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ای ایس پی این کے موجودہ انتظامیہ اور دیگر اسپورٹس نیٹ ورکس نے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بل راسموسن کا وژن صرف ایک چینل کا قیام نہیں تھا بلکہ یہ اسپورٹس کی صنعت میں ایک نئی ثقافت کی بنیاد تھی۔ ان کی جدت طرازی نے آنے والی نسلوں کے لیے اسپورٹس میڈیا میں کیریئر کے لاتعداد مواقع پیدا کیے اور آج اسپورٹس براڈکاسٹنگ جس مقام پر ہے، اس کا سہرا انہی کی ابتدائی کاوشوں کو جاتا ہے۔
بل راسموسن کی زندگی ایک عزم اور ہمت کی کہانی ہے جس نے ثابت کیا کہ ایک چھوٹی سی اختراعی سوچ کس طرح پوری دنیا کے میڈیا کے منظرنامے کو بدل سکتی ہے۔ انہوں نے اپنے کام کے ذریعے کھیلوں کے شائقین اور براڈکاسٹنگ کی صنعت کے درمیان جو پل تعمیر کیا، وہ ان کی یادوں کے ساتھ ہمیشہ زندہ رہے گا۔ ان کے پسماندگان میں ان کے اہل خانہ سمیت ان کے چاہنے والوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے جو ان کے علمی اور پیشہ ورانہ ورثے کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھیں گے۔