LIVE
Loading Breaking News...

جوہری توانائی اسٹارٹ اپس میں سرمایہ کاروں کو شدید نقصان

News Image
حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق جوہری توانائی کے شعبے سے وابستہ کمپنیوں کی مارکیٹ ویلیو میں اربوں ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے۔ شارٹ سیلرز نے اوکلو، نیوسکیل اور نینو نیوکلیئر جیسی کمپنیوں کے خلاف اربوں ڈالر کی شرط لگا کر بھاری منافع کمایا ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں توانائی کے شعبے سے وابستہ چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز پر کام کرنے والی کمپنیوں کے حصص میں شدید گراوٹ دیکھی جا رہی ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ان کمپنیوں کے بارے میں تکنیکی انتباہات سامنے آنے کے بعد ان کی مشترکہ مارکیٹ ویلیو سے تقریباً 100 ارب ڈالر کا اثاثہ غائب ہو چکا ہے۔ سرمایہ کاری کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ گراوٹ اس وقت تیز ہوئی جب مارکیٹ میں ان کمپنیوں کی ٹیکنالوجی کی پائیداری پر سوالات اٹھائے گئے۔ فنانشل ٹائمز کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ان کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد کو سخت نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شارٹ سیلرز نے اوکلو، نیوسکیل اور نینو نیوکلیئر جیسی کمپنیوں کے حصص کے خلاف شرط لگا کر اندازاً 2.1 ارب ڈالر کا منافع کمایا ہے۔ شارٹ سیلرز کا یہ اقدام اس وقت کامیاب رہا جب مارکیٹ کے تجزیہ کاروں نے ان کمپنیوں کے مستقبل اور ان کے ٹیکنالوجیکل ماڈلز کی کامیابی کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔ ان تینوں کمپنیوں کی مشترکہ مارکیٹ ویلیو میں 30.3 ارب ڈالر کی کمی صرف انتباہات کے بعد کے ابتدائی دنوں میں دیکھی گئی، جس کے بعد اس کا اثر پوری مارکیٹ پر پھیل گیا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ بحران صرف ایک کمپنی تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ اس پورے سیکٹر کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے۔ بہت سے چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹر بنانے والے ادارے فی الحال سخت ریگولیٹری نگرانی اور فنڈنگ کے مسائل سے دوچار ہیں۔ سرمایہ کار اب ان کمپنیوں کے مالیاتی گوشواروں کو مزید گہرائی سے دیکھ رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ان کا کاروباری ماڈل واقعی منافع بخش ہو سکتا ہے یا یہ صرف ایک عارضی رجحان تھا۔ آنے والے مہینوں میں ان کمپنیوں کو اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے ٹھوس نتائج اور عملی پیش رفت دکھانی ہوگی۔ اگرچہ جوہری توانائی کو مستقبل کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے، لیکن سرمایہ کاروں کا اعتماد اب بری طرح متزلزل ہو چکا ہے۔ اس طرح کے بڑے مالیاتی نقصانات کے بعد مارکیٹ میں مزید احتیاط برتی جا رہی ہے، جس کے اثرات طویل المدتی بنیادوں پر توانائی کے شعبے کے دیگر اسٹارٹ اپس پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔