Health
بڑھتی ہوئی گرمی اور بزرگ شہریوں کی صحت پر اثرات
اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے محققین کی جانب سے کی گئی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ انسانی جسم کی شدید گرمی کو برداشت کرنے کی صلاحیت پہلے کے اندازوں سے کافی کم ہے۔ تحقیق کے مطابق عمر رسیدہ افراد کے لیے بڑھتی ہوئی عالمی حدت موت کا ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔
ماہرینِ صحت اور اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے محققین نے خبردار کیا ہے کہ انسانی جسم کی شدید گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت کے حوالے سے ہمارے سابقہ اندازے غلط ثابت ہو رہے ہیں۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ گرمی کی لہروں کے دوران انسانی اعضاء جس حد تک درجہ حرارت کا مقابلہ کر سکتے ہیں، وہ توقع سے کہیں زیادہ کم ہے۔ خاص طور پر عمر رسیدہ افراد کے لیے یہ صورتحال انتہائی سنگین ہے کیونکہ بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ جسم کا قدرتی کولنگ سسٹم، یعنی پسینہ خارج کرنے کا عمل سست پڑ جاتا ہے، جس کی وجہ سے بزرگ افراد میں ہیٹ اسٹروک اور دیگر جان لیوا طبی مسائل کا خطرہ دوگنا ہو جاتا ہے۔
اس تحقیق کے نتائج بتاتے ہیں کہ جب درجہ حرارت ایک خاص حد سے تجاوز کر جاتا ہے تو انسانی جسم اپنی اندرونی توازن برقرار رکھنے میں ناکام ہونے لگتا ہے۔ بزرگ افراد کا میٹابولزم اور دل کی کارکردگی جوانوں کی نسبت کمزور ہوتی ہے، جس کی بنا پر ان کا جسم گرمی کے دباؤ کو برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ ماہرین کے مطابق اکثر بزرگ افراد ایسی ادویات بھی استعمال کر رہے ہوتے ہیں جو جسم میں پانی کی کمی یا درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے والے نظام میں رکاوٹ پیدا کر سکتی ہیں، جس سے ان کی گرمی کے خلاف مزاحمت مزید کمزور پڑ جاتی ہے۔
محققین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث دنیا بھر میں گرمی کی لہروں کا دورانیہ اور شدت بڑھ رہی ہے۔ اس بدلتے ہوئے منظر نامے میں، معمر افراد کی خصوصی دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔ صرف کمرے کو ٹھنڈا رکھنا کافی نہیں ہے، بلکہ ان کی خوراک، پانی کی مقدار اور ایسی ادویات کی نگرانی بھی ضروری ہے جو گرم موسم میں منفی اثرات ڈال سکتی ہیں۔ حکومتی سطح پر ایسی پالیسیوں کی ضرورت ہے جس میں شدید گرمی کے دنوں میں بزرگ شہریوں کے لیے خصوصی الرٹ اور طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
آخر میں، ماہرین نے عوام سے اپیل کی ہے کہ گرمی کے موسم میں اپنے بزرگ رشتہ داروں کا خاص خیال رکھیں۔ انہیں دھوپ میں نکلنے سے گریز کرانا، گھر کے اندر ہوا دار ماحول فراہم کرنا، اور زیادہ سے زیادہ پانی اور مشروبات کا استعمال کرانا ہی ان کی جان بچانے کا بہترین طریقہ ہے۔ اگر کسی بزرگ میں سر چکرانے، شدید تھکن یا بے چینی کی علامات ظاہر ہوں، تو اسے معمولی نہ سمجھا جائے اور فوری طبی امداد حاصل کی جائے تاکہ ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے۔