Pakistan
میر رضا قتل کیس: لواحقین کا وزیراعلیٰ سندھ سے نوٹس لینے کا مطالبہ
مقتول میر رضا کے والدین نے وکیل جبران ناصر کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کو خط لکھ کر تحقیقات کی براہِ راست نگرانی اور ناقص تفتیش کرنے والے افسران کے فوری معطلی کا مطالبہ کیا ہے۔ خط میں پولیس کی جانب سے خودکشی کے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کے لیے خصوصی اقدامات پر زور دیا گیا ہے۔
کراچی کے معروف کاروباری شخصیت اور کیفے 'وافکس' کے مالک میر رضا کے قتل کے کیس نے ایک نیا موڑ لے لیا ہے۔ مقتول کے والدین، میر حسین اور مریم حسین نے اپنے وکیل جبران ناصر کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو ایک اہم خط لکھا ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس قتل کی تحقیقات کی براہِ راست نگرانی کریں۔ والدین کا کہنا ہے کہ سندھ کے وزیر داخلہ، آئی جی سندھ اور موجودہ تفتیشی ٹیم میر رضا کے قتل کے حوالے سے حقائق کو مسخ کرنے اور اسے خودکشی کا رنگ دینے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔ لواحقین نے مطالبہ کیا کہ سابقہ تفتیشی ٹیم کے ان تمام افسران کو فوری طور پر معطل کیا جائے جنہوں نے ابتدائی تحقیقات کے دوران شواہد کو ضائع کیا اور حقائق چھپانے کی کوشش کی۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ میر رضا کے والدین سندھ پولیس میں موجود کرپشن، نااہلی اور سیاسی اثر و رسوخ کی سطح دیکھ کر سخت صدمے میں ہیں۔ وکیل جبران ناصر نے موقف اختیار کیا کہ پولیس کے موجودہ تفتیشی افسران کا اپنے عہدوں پر برقرار رہنا گواہوں کو متاثر کرنے اور شواہد کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا خطرہ پیدا کر رہا ہے۔ 22 صفحات پر مشتمل اس خط میں میر رضا کے قتل کے بعد سے اب تک ہونے والی ناقص تفتیش کے 24 اہم سوالات اٹھائے گئے ہیں، جن میں ڈیجیٹل اور فرانزک شواہد کی گمشدگی اور مقتول کے کاروباری ساتھی کے کردار کے بارے میں سوالات شامل ہیں۔
اس خط میں پولیس کی سابقہ ٹیم کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 201 اور 218 کے تحت سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے، جو ثبوت مٹانے اور ریکارڈ میں ہیر پھیر سے متعلق ہیں۔ لواحقین نے 13 نکاتی ٹرمز آف ریفرنس بھی پیش کیے ہیں تاکہ ایک شفاف محکمانہ انکوائری کا انعقاد کیا جا سکے اور یہ معلوم کیا جا سکے کہ کس کے دباؤ پر اس کیس کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔ یاد رہے کہ میر رضا کی لاش جولائی کے آخر میں گلستانِ جوہر کے علاقے سے ملی تھی، جس کے بعد سے ان کے والدین مسلسل انصاف کی فراہمی کے لیے کوشاں ہیں۔
واضح رہے کہ حال ہی میں ہونے والے دوسرے پوسٹ مارٹم کے بعد پولیس نے خودکشی کے دعوے کو مسترد کر دیا تھا، تاہم لواحقین کا کہنا ہے کہ اب بھی تحقیقات میں جان بوجھ کر تاخیر کی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر سمیعہ سید کی سربراہی میں ہونے والے میڈیکل بورڈ نے لاش پر تشدد کے نشانات اور دیگر شواہد کی تصدیق کی ہے۔ اب گیند وزیراعلیٰ سندھ کے کورٹ میں ہے کہ وہ اس کیس میں شفافیت کو یقینی بناتے ہوئے مقتول کے والدین کو انصاف دلانے کے لیے کیا اقدامات اٹھاتے ہیں۔