Technology
ہیمز اینڈ ہرز پر ڈیٹا کی خلاف ورزی کا مقدمہ: ایف ٹی سی کا ایکشن
فیڈرل ٹریڈ کمیشن نے ٹیلی ہیلتھ کمپنی ہیلمز اینڈ ہرز پر اپنے صارفین کا طبی ڈیٹا اشتہاری پلیٹ فارمز کے ساتھ شیئر کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ کمپنی پر دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ رازداری کا وعدہ کرنے کے باوجود صارفین کی حساس معلومات میٹا اور اسنیپ چیٹ کو منتقل کرتی رہی۔
امریکہ کے وفاقی ریگولیٹری ادارے 'فیڈرل ٹریڈ کمیشن' (FTC) نے ٹیلی ہیلتھ کمپنی 'ہیمز اینڈ ہرز' (Hims and Hers) کے خلاف ایک اہم قانونی مقدمہ دائر کیا ہے۔ ریگولیٹرز کا الزام ہے کہ یہ کمپنی اپنے صارفین کو رازداری اور طبی معلومات کی حفاظت کا یقین دلاتی تھی، لیکن درحقیقت وہ صارفین کی انتہائی حساس طبی حالت سے متعلق معلومات کو میٹا (Meta)، اسنیپ (Snap) اور دیگر بڑے اشتہاری پلیٹ فارمز کے ساتھ شیئر کرتی رہی ہے۔ یہ کارروائی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کے حوالے سے حکومتی ادارے اب کس قدر سخت رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ ایف ٹی سی کے مطابق، ہیلمز اینڈ ہرز نے اپنی مارکیٹنگ مہم میں اس بات پر زور دیا کہ ان کا پلیٹ فارم مکمل طور پر محفوظ اور نجی ہے، جس سے صارفین کا اعتماد حاصل کیا گیا۔ تاہم، اندرونی تحقیقات اور شواہد سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کمپنی کے سسٹمز کے ذریعے ٹریکنگ ٹولز نصب کیے گئے تھے جو صارفین کا ڈیٹا مشتہرین کو منتقل کرتے تھے۔ اس ڈیٹا میں مریضوں کی مخصوص طبی شکایات، علاج سے متعلق معلومات اور دیگر حساس تفصیلات شامل تھیں۔ یہ عمل نہ صرف کمپنی کی اپنی پالیسیوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ صارفین کے بنیادی حقوق اور رازداری کے قوانین کا بھی صریح غلط استعمال ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیلی ہیلتھ کے شعبے میں اس طرح کا ڈیٹا شیئرنگ عمل مریضوں کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔ جب کوئی صارف کسی طبی پلیٹ فارم پر اپنی بیماری کی تفصیلات شیئر کرتا ہے، تو وہ یہ توقع رکھتا ہے کہ یہ ڈیٹا صرف ڈاکٹروں اور صحت کے ماہرین تک محدود رہے گا۔ لیکن اگر یہی ڈیٹا اشتہاری کمپنیوں کو فروخت کر دیا جائے تو اسے نہ صرف اشتہارات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے بلکہ یہ مریضوں کی شناخت اور ان کی نجی زندگی کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔ ایف ٹی سی اب اس معاملے کی گہرائی سے تحقیقات کر رہی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ کمپنی پر بھاری جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں۔ ہیلمز اینڈ ہرز کی جانب سے ابھی تک اس مقدمے پر کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے، تاہم یہ معاملہ ٹیلی ہیلتھ انڈسٹری میں ڈیٹا سیکیورٹی کے معیار پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ کیس عدالتی کارروائی کے دوران مزید تفصیلات سامنے لائے گا، جو ان تمام کمپنیوں کے لیے ایک انتباہ ثابت ہوگا جو صارفین کے اعتماد کو تجارت کے لیے استعمال کرتی ہیں۔