Business
چینی اسٹاک مارکیٹ میں تاریخی مندی، ایک دہائی کا بدترین ماہ
چینی حصص بازار میں جاری شدید مندی کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ ایک دہائی کے بدترین ماہانہ زوال کا سامنا کر رہی ہے۔ چپ انڈسٹری میں فروخت کے دباؤ اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں گراوٹ نے سرمایہ کاروں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
چین کے حصص بازاروں میں جاری شدید مندی تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے اور تازہ ترین رپورٹ کے مطابق چینی اسٹاک ایک دہائی کے بدترین ماہانہ زوال کی طرف گامزن ہیں۔ حالیہ تجارتی سیشنز کے دوران شنگھائی کمپوزٹ انڈیکس اور دیگر اہم اشاریوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جس نے سرمایہ کاروں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ مالیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس مجموعی گراوٹ کی بڑی وجہ چپ بنانے والی کمپنیوں کے حصص میں ہونے والی بھاری فروخت اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں آنے والا حالیہ انحطاط ہے۔
مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، شنگھائی کمپوزٹ انڈیکس میں 1.16 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ اسٹار 50 انڈیکس میں تین فیصد سے زائد کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی۔ چپ انڈسٹری سے وابستہ بڑی کمپنیاں شدید دباؤ کا شکار ہیں اور کچھ حصص میں تو نچلا سرکٹ بھی لگ گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے عالمی رجحانات میں تبدیلی اور مقامی سطح پر اقتصادی چیلنجز نے چینی مارکیٹ کے روایتی رجحان کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے، جس کے اثرات اب پورے خطے کے مالیاتی اداروں پر پڑ رہے ہیں۔
تاہم، اس مجموعی مندی کے دوران کچھ شعبوں میں مثبت رجحان بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ ہانگ کانگ کے حصص بازار اور کنزیومر اسٹیپلز کے سیکٹر نے اس عمومی مندی کے برعکس بہتری دکھائی ہے اور کچھ انفرادی کمپنیوں کے شیئرز میں نمایاں اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود، مجموعی مارکیٹ کا منظر نامہ انتہائی دباؤ کا شکار ہے اور ماہرین کا خیال ہے کہ جب تک عالمی سطح پر چپ سیکٹر کے مسائل حل نہیں ہوتے، چینی مارکیٹ پر مندی کے بادل چھائے رہیں گے۔