Business
نیوزی لینڈ ہاؤسنگ مارکیٹ: پراپرٹی کے جنون کے معاشی اثرات
نیوزی لینڈ میں رہائشی جائیدادوں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ایک گہری سماجی اور معاشی بحث کا مرکز بن چکا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس پراپرٹی جنون نے ملک کی طویل مدتی اقتصادی ترقی کو محدود کر دیا ہے۔
نیوزی لینڈ میں رہائشی جائیدادوں کی قیمتوں میں ہونے والا مسلسل اضافہ ملک کے سماجی اور اقتصادی ڈھانچے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ کے عوام میں گھر خریدنے اور اس میں سرمایہ کاری کرنے کا ایک جنون پایا جاتا ہے، جو بظاہر سمجھ میں آتا ہے، لیکن اس کے طویل مدتی نتائج ملکی معیشت کے لیے سودمند ثابت نہیں ہو رہے۔ نفسیات کے ماہرین اسے 'اینڈومنٹ ایفیکٹ' (Endowment Effect) کا نام دیتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی چیز کا مالک بن جاتا ہے تو وہ اس کی قدر اس کی حقیقی مارکیٹ ویلیو سے کہیں زیادہ سمجھنے لگتا ہے۔ جب یہ اثاثہ خاندانی گھر ہو، تو اس سے وابستگی اور بھی گہری ہو جاتی ہے۔
تجزیہ کار گریگ اسمتھ کے مطابق، نیوزی لینڈ کی معیشت کا بڑا حصہ رئیل اسٹیٹ کے گرد گھومتا ہے۔ جب سرمایہ کاری کے دیگر منافع بخش مواقع محدود ہوں، تو لوگ اپنے سرمائے کو پراپرٹی میں منتقل کرنا محفوظ سمجھتے ہیں۔ اس رجحان نے گھروں کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا ہے، جس کے نتیجے میں نوجوان نسل اور کم آمدنی والے افراد کے لیے اپنا ذاتی گھر خریدنا ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال ملک میں معاشی عدم مساوات کو بڑھا رہی ہے، جہاں پراپرٹی کے مالکان تو امیر سے امیر تر ہو رہے ہیں، مگر کرایہ دار طبقہ معاشی دباؤ کا شکار ہے۔
اس پراپرٹی جنون کے مضمرات صرف گھریلو سطح تک محدود نہیں ہیں، بلکہ یہ ملکی پیداواری صلاحیت پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں۔ جب ملک کا زیادہ تر سرمایہ زمین اور عمارتوں میں پھنس جائے گا، تو جدت طرازی، ٹیکنالوجی اور پیداواری صنعتوں میں سرمایہ کاری کے لیے فنڈز کی کمی ہو جاتی ہے۔ معاشی ماہرین کا یہ موقف ہے کہ نیوزی لینڈ کو اپنی معیشت کو پراپرٹی پر منحصر رکھنے کے بجائے دیگر صنعتوں کی طرف توجہ دینی چاہیے تاکہ ملک ایک متوازن ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔ حکومت پر بھی دباؤ ہے کہ وہ ایسی پالیسیاں وضع کرے جس سے ہاؤسنگ مارکیٹ کو مستحکم کیا جا سکے اور عام آدمی کی پہنچ میں لایا جا سکے۔
آخر میں، یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ ایک مستحکم ہاؤسنگ مارکیٹ ملک کی خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ پراپرٹی کے جنون میں مبتلا ہونے کے بجائے، پالیسی سازوں کو چاہیے کہ وہ ہاؤسنگ سپلائی میں اضافہ کریں اور زمین کے استعمال کے قوانین کو نرم کریں تاکہ قیمتوں میں مصنوعی اضافہ روکا جا سکے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ 'پراپرٹی کا جنون' نیوزی لینڈ کی آنے والی نسلوں کی معاشی ترقی کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہوگا۔