LIVE
Loading Breaking News...

نیوکلیئر اسٹاکس میں کریش: شارٹ سیلرز کی چاندی، اربوں کا منافع

News Image
ماڈیولر نیوکلیئر ری ایکٹر بنانے والی کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں شدید کمی کے باعث سرمایہ کاروں کو بھاری نقصان کا سامنا ہے۔ اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شارٹ سیلرز نے مجموعی طور پر دو ارب ڈالر سے زائد کا منافع حاصل کر لیا ہے۔
عالمی اسٹاک مارکیٹ میں ماڈیولر نیوکلیئر ری ایکٹر (SMR) ٹیکنالوجی سے وابستہ کمپنیوں کے حصص کی قدر میں غیر معمولی گراوٹ دیکھی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کو شدید مالی دھچکا لگا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، اس شعبے میں سرگرم کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں گرنے سے شارٹ سیلرز کو تقریباً 2 ارب ڈالر کا بھاری منافع ہوا ہے۔ مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نیوکلیئر سیکٹر کے حوالے سے توقعات بہت زیادہ تھیں، تاہم حقیقت پسندی کے فقدان اور تکنیکی مشکلات کے باعث یہ اسٹاکس تیزی سے نیچے آئے ہیں۔ اس صورتحال کا سب سے زیادہ اثر معروف کمپنی ایکس انرجی (X-energy) پر پڑا ہے۔ اپریل میں اپنے ابتدائی پبلک آفرنگ (IPO) کے بعد کمپنی کے حصص میں زبردست تیزی دیکھی گئی تھی، جس سے مارکیٹ ویلیو میں بے پناہ اضافہ ہوا تھا، لیکن حالیہ دنوں میں یہ رجحان مکمل طور پر الٹ چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ایکس انرجی کی مارکیٹ ویلیو میں اب تک 5.8 ارب ڈالر کی کمی واقع ہو چکی ہے۔ اس گراوٹ نے ان سرمایہ کاروں کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے جنہوں نے کمپنی کے مستقبل پر بھروسہ کرتے ہوئے بھاری سرمایہ کاری کی تھی۔ دوسری جانب شارٹ سیلرز، جنہوں نے مارکیٹ کے اس منفی رجحان کی پیشگوئی کرتے ہوئے پہلے ہی سے پوزیشنز لے رکھی تھیں، نے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔ صرف ایکس انرجی کے خلاف لگائی گئی شرطوں سے شارٹ سیلرز نے اب تک 67 ملین ڈالر سے زائد کی خطیر رقم کمائی ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ نیوکلیئر توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری اب انتہائی پرخطر ہو چکی ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل دکھائی دیتا ہے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ ماڈیولر نیوکلیئر ری ایکٹر ابھی بھی ایک ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی ہے اور اس کے تجارتی پیمانے پر کامیابی کے امکانات پر ابھی بھی بحث جاری ہے۔ اسٹاک مارکیٹ میں آنے والی یہ حالیہ گراوٹ نہ صرف ان کمپنیوں کے مالیاتی استحکام کے لیے خطرہ ہے بلکہ یہ ان نئے سرمایہ کاروں کے لیے بھی ایک سبق ہے جو بغیر تحقیق کے ٹیکنالوجی سیکٹر میں بڑی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ آئندہ آنے والے مہینوں میں مارکیٹ کا رجحان اس بات پر منحصر ہوگا کہ یہ کمپنیاں کس طرح اپنی پیداواری صلاحیت اور حکومتی منظوری کے عمل کو تیز کرتی ہیں۔