LIVE
Loading Breaking News...

روبن ولیمز کے بچوں کی اے آئی کے خلاف مہم کا آغاز

News Image
مرحوم اداکار روبن ولیمز کے بچوں نے اپنے والد کی ڈیجیٹل شناخت اور امیج کے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ان کا انسٹاگرام اکاؤنٹ بحال کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ نئی نسل تک اپنے والد کا کام پہنچانے کے ساتھ ساتھ ان کی ڈیجیٹل وراثت کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔
ہالی ووڈ کے لیجنڈری اداکار روبن ولیمز کے بچوں نے ایک اہم اقدام اٹھاتے ہوئے اپنے والد کے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ کو دوبارہ فعال کر دیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے غلط استعمال کے خلاف مزاحمت کرنا اور اپنے والد کی ڈیجیٹل شناخت کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ زک، زیلڈا اور کوڈی ولیمز نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں اپنے والد کی میراث کو غلط ہاتھوں میں جانے سے روکنے کے لیے پرعزم ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے سے روبن ولیمز سمیت کئی آنجہانی فنکاروں کی آواز اور تصاویر کو اے آئی ٹولز کے ذریعے غیر اخلاقی طور پر استعمال کرنے کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔ ولیمز کے بچوں کا کہنا ہے کہ یہ 'ریمپنٹ اے آئی ابیوز' (مصنوعی ذہانت کا بے دریغ غلط استعمال) نہ صرف فنکاروں کی عزتِ نفس کے منافی ہے بلکہ یہ عوامی اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچاتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ کسی بھی انسان کی ڈیجیٹل نقل بنانا اس کی ذاتی زندگی اور وراثت کی توہین کے زمرے میں آتا ہے۔ روبن ولیمز کے بچوں نے اپنے مداحوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کی اس مہم کا حصہ بنیں تاکہ ڈیجیٹل دنیا میں اخلاقی حدود کا تعین کیا جا سکے۔ انسٹاگرام پر جاری پیغام میں انہوں نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات پر شکر گزار ہیں کہ نئی نسلیں آج بھی روبن ولیمز کے کام کو دریافت کر رہی ہیں اور ان کی اداکاری سے لطف اندوز ہو رہی ہیں۔ تاہم، وہ چاہتے ہیں کہ یہ یادیں اور یہ فن مستند ذرائع سے ہی لوگوں تک پہنچیں۔ یہ معاملہ اے آئی کی دنیا میں ایک بڑی بحث کو جنم دے رہا ہے، جہاں کئی فنکار اور ان کے ورثاء اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی کارروائیوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ روبن ولیمز کے بچوں کی یہ کاوش دیگر فنکاروں کے لیے ایک مثال ثابت ہو سکتی ہے، جو اپنی ڈیجیٹل شناخت کے تحفظ کے لیے کوشاں ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں ڈیجیٹل شناخت کے حقوق سے متعلق قوانین مزید سخت ہوں گے تاکہ کسی بھی شخص کی اجازت کے بغیر اس کی ڈیجیٹل نقل کو تجارتی یا غیر اخلاقی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔