LIVE
Loading Breaking News...

روبو کالز کا بڑھتا ہوا عذاب اور اس سے بچاؤ کے طریقے

News Image
موبائل فون پر آنے والی خودکار روبو کالز نے صارفین کی زندگی اجیرن کر دی ہے جس کی روک تھام ٹیکنالوجی کی ترقی کے باوجود ایک چیلنج بن چکی ہے۔ سائبر ماہرین کا ماننا ہے کہ کالر آئی ڈی کو دھوکہ دینے والی جدید ٹیکنالوجی ان جعل سازوں کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔
آج کے جدید دور میں، جب آپ کا فون بجتا ہے تو آپ کو امید ہوتی ہے کہ کوئی اہم کال ہوگی، لیکن اکثر آپ کو ایک بے جان اور خودکار آواز سنائی دیتی ہے جو آپ کو کسی مبینہ فراڈ یا کسی حکومتی ادارے کے نام پر دھمکیاں دیتی ہے۔ یہ روبو کالز (Robocalls) اب ایک عالمی وبا کی شکل اختیار کر چکی ہیں، جن سے چھٹکارا پانا عام صارفین کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی میں پیش رفت کے ساتھ ساتھ ان کالز کا معیار بھی بدل رہا ہے، جس کی وجہ سے انہیں پہچاننا اور ان سے بچنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ اس مسئلے کی جڑ میں وہ جدید ٹیکنالوجی ہے جو جعل سازوں کو کالر آئی ڈی کو تبدیل (Spoofing) کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ اس کے ذریعے، یہ خودکار سسٹمز ایسا ظاہر کرتے ہیں جیسے کال کسی مقامی نمبر یا کسی معتبر ادارے سے آ رہی ہے۔ جب صارفین دیکھتے ہیں کہ کال ان کے اپنے علاقے کے کوڈ یا کسی جانے پہچانے نمبر سے ہے، تو وہ اسے اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہ حکمت عملی اتنی مؤثر ہے کہ اکثر لوگ اس کے جال میں آسانی سے پھنس جاتے ہیں، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جعل ساز ذاتی معلومات یا مالی تفصیلات چرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال سے اب روبو کالز بہت زیادہ 'انسانی' محسوس ہونے لگی ہیں۔ پہلے کی روبوٹک آوازوں کے برعکس، اب یہ سسٹمز آواز کے اتار چڑھاؤ کو درست کر کے صارف کو مکمل یقین دلاتے ہیں کہ دوسری جانب ایک حقیقی انسان موجود ہے۔ اس کے علاوہ، کال سینٹرز کی بڑی تعداد جو بہت کم لاگت میں کام کرتی ہے، دنیا بھر میں ان کالز کو پھیلانے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ان عالمی نیٹ ورکس تک پہنچنا انتہائی مشکل ہے کیونکہ یہ کالز سرحدوں کے پار سے آتی ہیں اور اکثر سرورز کا پتہ لگانا ناممکن ہوتا ہے۔ صارفین کو چاہیے کہ وہ نامعلوم نمبروں پر جواب دینے میں احتیاط برتیں اور اپنے فون میں دستیاب 'سپیم فلٹرز' کا استعمال کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ، کسی بھی ایسی کال پر اپنی ذاتی یا بینک کی تفصیلات شیئر نہ کریں جس پر آپ کو شک ہو۔ حکومتی سطح پر بھی ٹیلی کام کمپنیوں کے ساتھ مل کر ایسی ٹیکنالوجیز پر کام کیا جا رہا ہے جو ان جعلی کالز کو نیٹ ورک لیول پر ہی روک سکیں، تاہم تب تک صارفین کو خود ہی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی ہوں گی۔