LIVE
Loading Breaking News...

ڈاکٹر چارلس رابرٹس سینٹ جوڈ ہسپتال کے نئے سربراہ تعینات

News Image
سینٹ جوڈ چلڈرن ریسرچ ہسپتال نے ڈاکٹر چارلس رابرٹس کو اپنا نیا صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کیا ہے۔ ڈاکٹر رابرٹس کا کہنا ہے کہ طب کی دنیا میں بچوں کے کینسر کے علاج کا ایک نیا اور انقلابی دور شروع ہو چکا ہے۔
ممفیس میں واقع معروف سینٹ جوڈ چلڈرن ریسرچ ہسپتال نے باضابطہ طور پر ڈاکٹر چارلس ڈبلیو ایم رابرٹس کو اپنا نیا صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) تعینات کر دیا ہے۔ ڈاکٹر رابرٹس نے اس عہدے پر ڈاکٹر جیمز آر ڈاؤننگ کی جگہ لی ہے جنہوں نے گزشتہ بارہ برسوں تک اس غیر منافع بخش ادارے کی قیادت کی۔ ڈاکٹر رابرٹس کی تعیناتی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب کینسر کے علاج میں جدید ٹیکنالوجی اور جینیاتی تحقیق نے حیران کن نتائج دینا شروع کیے ہیں۔ اپنی تقرری کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ہسپتال کے مشن کو مزید آگے بڑھائیں گے تاکہ دنیا بھر میں کینسر سے متاثرہ بچوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ ڈاکٹر رابرٹس کا ماننا ہے کہ ہم طب کی تاریخ میں ایک ایسے مقام پر کھڑے ہیں جسے کینسر کے علاج کے نئے دور کا آغاز کہا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دہائیوں کے دوران ہونے والی سائنسی تحقیق اب عملی شکل اختیار کر رہی ہے جس سے بچوں کے کینسر کی پیچیدہ اقسام کو سمجھنا اور ان کا علاج کرنا پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق، جینیاتی علاج اور پرسنلائزڈ میڈیسن اس نئے عہد کی بنیاد ہیں جو کینسر کے شکار بچوں کے لیے امید کی نئی کرنیں لا رہے ہیں۔ سینٹ جوڈ ہسپتال اپنی تحقیق اور علاج کے لیے دنیا بھر میں منفرد مقام رکھتا ہے، جہاں بچوں کا علاج بغیر کسی فیس کے کیا جاتا ہے۔ نئے سی ای او نے اس بات پر زور دیا کہ ہسپتال اپنی اس روایت کو برقرار رکھتے ہوئے مزید جدید لیبارٹریز اور کلینیکل ٹرائلز پر توجہ مرکوز کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کینسر کے خلاف جنگ صرف ادویات تک محدود نہیں بلکہ اس کے لیے عالمی سطح پر تعاون اور سائنسی اشتراک کی بھی ضرورت ہے تاکہ بیماری کی جڑ تک پہنچا جا سکے۔ ڈاکٹر رابرٹس کا علمی پس منظر اور طبی شعبے میں ان کا وسیع تجربہ اس ہسپتال کے لیے ایک اثاثہ ثابت ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی قیادت میں سینٹ جوڈ ہسپتال کینسر کے علاج میں آنے والی ٹیکنالوجی کے استعمال کو مزید وسعت دے گا، جس سے نہ صرف علاج کی شرح میں بہتری آئے گی بلکہ مریضوں کی زندگی کا معیار بھی بہتر ہوگا۔ یہ تبدیلی ادارہ جاتی استحکام اور جدید سائنسی تحقیق کی طرف ایک بڑا قدم سمجھی جا رہی ہے۔