LIVE
Loading Breaking News...

ایران کا جنگ بندی سے انکار اور امریکہ کے ساتھ کشیدہ صورتحال

News Image
ایران نے واضح کیا ہے کہ اسے عارضی جنگ بندی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور وہ تنازعہ کے مکمل خاتمے کا خواہاں ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے متضاد بیانات نے عالمی سطح پر بحث چھیڑ دی ہے۔
مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال کے دوران ایران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ اسے کسی بھی قسم کی عارضی جنگ بندی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ تہران کا موقف ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی اور جنگ کا صرف مکمل خاتمہ ہی دیرپا امن کی ضمانت دے سکتا ہے۔ ایران کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی طاقتیں اور سفارتکار خطے میں بڑھتے ہوئے تناؤ کو کم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ایرانی حکام کا ماننا ہے کہ عارضی وقفے صرف دشمن کو اپنی طاقت مجتمع کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں، اس لیے وہ صرف تنازعے کے مکمل اور مستقل حل کے حامی ہیں۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے حوالے سے متضاد بیانات نے سیاسی پنڈتوں اور عالمی مبصرین کو الجھن میں ڈال دیا ہے۔ ایک روز قبل ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات یا ڈیل میں عدم دلچسپی کا اظہار کیا تھا، تاہم اگلے ہی روز انہوں نے یہ کہہ کر سب کو حیران کر دیا کہ وہ ایران کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ ایران کے ساتھ صورتحال انتہائی بہتر ہے، ان کے گزشتہ سخت موقف کے بالکل برعکس ہے۔ یہ تضاد واضح کرتا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے اندر ایران پالیسی پر ابھی تک کوئی حتمی اور واضح لائحہ عمل طے نہیں پایا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ بظاہر ایران کے ساتھ کسی بڑے معاہدے کے خواہاں ہیں تاکہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کو اپنے دور صدارت میں ختم یا محدود کیا جا سکے۔ تاہم، اس مقصد کے حصول کے لیے 'قیمت' کا تعین ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ ایران کے پاسداران انقلاب (IRGC) کے ساتھ کسی بھی قسم کا سمجھوتہ کرنا ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک سیاسی چیلنج ہو سکتا ہے۔ ایران نے بھی اپنی شرائط واضح کر دی ہیں کہ وہ اپنی خود مختاری پر سمجھوتہ کیے بغیر کسی بھی مذاکراتی عمل کا حصہ بنے گا۔ آئندہ آنے والے دن اس بات کا تعین کریں گے کہ کیا امریکہ اور ایران کسی مشترکہ نکتے پر متفق ہو پائیں گے یا نہیں۔ عالمی برادری اس تمام تر صورتحال کو انتہائی تشویش کی نظر سے دیکھ رہی ہے، کیونکہ اس تنازعے کا اثر نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی لائنز پر بھی براہ راست پڑے گا۔ دونوں ممالک کے درمیان بدلتی ہوئی بیان بازی اس بات کا اشارہ ہے کہ سفارتی کوششیں تو جاری ہیں، لیکن کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ابھی طویل سفر باقی ہے۔