LIVE
Loading Breaking News...

پوسٹ پارٹم سائیکوسس کیا ہے اور یہ کیوں خطرناک ہے؟

News Image
لنڈسے کلینسی کے مقدمے نے پوسٹ پارٹم سائیکوسس جیسے سنجیدہ نفسیاتی عارضے کو عالمی سطح پر بحث کا مرکز بنا دیا ہے۔ طبی ماہرین کا مطالبہ ہے کہ اس بیماری کی بروقت تشخیص اور علاج کے لیے جدید طبی ڈھانچے میں اصلاحات کی جائیں۔
حال ہی میں لنڈسے کلینسی کے ہائی پروفائل عدالتی مقدمے نے پوری دنیا میں پوسٹ پارٹم سائیکوسس (postpartum psychosis) کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ بیماری ولادت کے بعد ہونے والی ایک انتہائی سنگین نفسیاتی کیفیت ہے جسے طبی اصطلاح میں ایک ہنگامی طبی حالت قرار دیا جاتا ہے۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق یہ کیفیت عام پوسٹ پارٹم ڈپریشن سے بالکل مختلف اور کہیں زیادہ خطرناک ہوتی ہے، جس میں مریضہ کو شدید ہیجان، مایوسی، فریبِ نظر اور عجیب و غریب وہم جیسی علامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لنڈسے کلینسی کے کیس نے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ اگر بروقت تشخیص نہ ہو تو یہ بیماری نہ صرف ماں بلکہ پورے خاندان کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پوسٹ پارٹم سائیکوسس کی علامات اکثر اچانک نمودار ہوتی ہیں اور ان میں مریضہ کی ذہنی حالت تیزی سے بگڑ سکتی ہے۔ اس کیفیت میں مبتلا خواتین اکثر اپنے گردوپیش سے کٹ جاتی ہیں اور انہیں ایسی چیزیں سنائی یا دکھائی دے سکتی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ماہرین کے مطابق، ولادت کے بعد ہارمونز میں ہونے والی اچانک تبدیلی، نیند کی شدید کمی اور جینیاتی عوامل اس مرض کے محرکات ثابت ہو سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے معاشرتی دباؤ اور سماجی شرمندگی کے باعث اکثر خواتین مدد مانگنے سے گریز کرتی ہیں، جس سے یہ بیماری مزید شدت اختیار کر جاتی ہے۔ لنڈسے کلینسی کے عدالتی عمل کے بعد اب طبی ماہرین اور سماجی تنظیموں کی جانب سے یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ صحت کے مراکز میں زچہ و بچہ کی نگہداشت کے دوران ذہنی صحت کی اسکریننگ کو لازمی قرار دیا جائے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر نوزائیدہ بچوں کی ماؤں کی ذہنی حالت کی مسلسل نگرانی کی جائے تو اس طرح کے المیوں کو پیشگی روکا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پوسٹ پارٹم سائیکوسس کو محض ایک جذباتی مسئلہ سمجھنے کے بجائے اسے ایک سنجیدہ نیورولوجیکل اور سائیکاٹرک ایمرجنسی کے طور پر ڈیل کیا جانا چاہیے۔ آخر میں، اس مسئلے کا پائیدار حل صرف بیداری میں ہی مضمر ہے۔ خاندان کے افراد، خاص طور پر شوہر اور قریبی رشتہ داروں کو چاہیے کہ وہ زچگی کے بعد ماں کے رویے میں آنے والی چھوٹی سے چھوٹی تبدیلی پر بھی توجہ دیں۔ اگر کسی خاتون میں اچانک غصہ، بدحواسی یا معمول سے ہٹ کر رویہ نظر آئے تو اسے فوراً کسی ماہرِ نفسیات یا ماہرِ امراضِ نسواں سے رجوع کرنا چاہیے۔ ترقی یافتہ طبی سہولیات اور بروقت طبی مداخلت سے اس بیماری پر قابو پانا ممکن ہے، جس سے نہ صرف مائیں صحت یاب ہو سکتی ہیں بلکہ خاندانوں کو بھی ٹوٹ پھوٹ سے بچایا جا سکتا ہے۔