LIVE
Loading Breaking News...

عالمی منڈیوں میں ہلچل: نیس ڈیک اور امریکی بانڈز کی صورتحال پر تجزیہ

News Image
مشرق وسطیٰ میں جاری تناؤ کے باعث سرمایہ کاروں میں بے چینی پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے نیس ڈیک انڈیکس میں مندی دیکھی گئی۔ دوسری جانب امریکی حکومتی بانڈز کی پیداوار کئی سالوں کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں اس وقت شدید غیر یقینی کی صورتحال پائی جا رہی ہے جس کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی ہے۔ نیویارک اسٹاک ایکسچینج کے اہم انڈیکس نیس ڈیک (Nasdaq) میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے، جس کی وجہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاروں کا محتاط رویہ ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں جاری تنازعات نے عالمی سپلائی چین اور توانائی کی قیمتوں کے بارے میں خدشات کو جنم دیا ہے، جس کے براہ راست اثرات امریکی شیئرز مارکیٹ پر مرتب ہو رہے ہیں۔ سرمایہ کار اب محفوظ اثاثوں کی جانب رخ کرنے پر مجبور ہیں تاکہ ممکنہ معاشی جھٹکوں سے بچا جا سکے۔ دوسری جانب امریکی حکومتی بانڈز کی پیداوار (Bond Yields) میں بھی غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ منگل کے روز طویل مدتی بانڈز کی شرح سود میں معمولی کمی ہوئی ہے، تاہم یہ اب بھی کئی سالوں کی بلند ترین سطح کے قریب کھڑی ہے۔ خاص طور پر 30 سالہ ٹریژری بانڈز کی ییلڈز میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مارکیٹ کو مستقبل میں مہنگائی اور مرکزی بینک کی پالیسیوں کے حوالے سے سخت چیلنجز کا سامنا ہے۔ بلند شرح سود کے ماحول میں سرمایہ کاروں کے لیے قرض لینا مہنگا ہو جاتا ہے، جو مجموعی اقتصادی ترقی کی رفتار کو سست کرنے کا باعث بن رہا ہے۔ ماہرینِ معاشیات کا ماننا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید خراب ہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آئے گا۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پہلے ہی افراطِ زر کے دباؤ کو بڑھا رہا ہے، جس سے فیڈرل ریزرو کے لیے مانیٹری پالیسی کو کنٹرول کرنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔ سرمایہ کاروں کی نظریں اب امریکی فیڈرل ریزرو کے آئندہ اقدامات پر ہیں تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ آیا مرکزی بینک شرح سود میں کمی کا کوئی اشارہ دیتا ہے یا نہیں۔ موجودہ صورتحال میں عالمی معیشت ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں سیاسی حالات براہ راست اسٹاک انڈیکسز کی سمت کا تعین کر رہے ہیں۔