LIVE
Loading Breaking News...

توانائی کے حصص میں مندی: اے آئی سرمایہ کاری کے خدشات پر مارکیٹ متاثر

News Image
وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں تین ٹریلین ڈالر کے آف بیلنس شیٹ اے آئی وعدوں کا انکشاف ہونے کے بعد توانائی کے شعبے کے اسٹاکس میں زبردست مندی دیکھی گئی۔ ایف ٹی اے آئی ایوی ایشن اور جی ای ورنووا سمیت کئی کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
منگل کے روز عالمی اسٹاک مارکیٹ میں توانائی کے شعبے سے وابستہ کمپنیوں کے حصص میں اس وقت غیر معمولی گراوٹ دیکھی گئی جب وال اسٹریٹ جرنل کی ایک حالیہ رپورٹ نے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کی ترقی کے لیے کیے گئے تین ٹریلین ڈالر کے 'آف بیلنس شیٹ' وعدوں نے مارکیٹ کے استحکام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اس انکشاف کے بعد سرمایہ کاروں نے مارکیٹ سے اپنے خطرات کو کم کرنے (De-risking) کے لیے اسٹاکس کی فروخت شروع کر دی، جس کے نتیجے میں بیہائنڈ دی میٹر انرجی کمپنیاں بری طرح متاثر ہوئیں۔ اس مندی کے شکار ہونے والی نمایاں کمپنیوں میں ایف ٹی اے آئی ایوی ایشن شامل ہے جس کے حصص میں 7 فیصد تک کی کمی دیکھی گئی، جبکہ جی ای ورنووا کے حصص میں 6 فیصد کی تنزلی ہوئی۔ اس کے علاوہ بھاری مشینری اور توانائی کے شعبے میں کام کرنے والی مشہور کمپنی کیٹرپلر کے حصص بھی 4 فیصد تک نیچے گر گئے۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ گراوٹ اس بات کی عکاس ہے کہ اے آئی انفراسٹرکچر کے لیے درکار توانائی کی بڑھتی ہوئی مانگ اور اس کے پیچھے موجود مالیاتی ڈھانچے کے بارے میں مارکیٹ کے کھلاڑی اب محتاط ہو چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی ماڈلز کو چلانے کے لیے درکار ڈیٹا سینٹرز کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری تو بڑھ رہی ہے، تاہم ان سرمایہ کاریوں کی شفافیت اور مالی بوجھ اب سرمایہ کاروں کے لیے تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ جب تک ان آف بیلنس شیٹ کمٹمنٹس کی نوعیت واضح نہیں ہوتی، تب تک توانائی اور اے آئی سے وابستہ اسٹاکس میں اتار چڑھاؤ کا یہ سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ موجودہ صورتحال میں محتاط رویہ اپنائیں اور مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو قریب سے مانیٹر کریں۔