Technology
شمال مشرقی بھارت میں کسانوں کے لیے نیکٹر کی نئی ٹیکنالوجی اور زعفران منصوبہ
نارتھ ایسٹ سینٹر فار ٹیکنالوجی ایپلی کیشن اینڈ ریچ (نیکٹر) نے خطے کے دور دراز علاقوں کے کسانوں کی مدد کے لیے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد مقامی کاشتکاری کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنا ہے۔
شیلانگ میں منعقدہ ماہانہ آئی ایم پی سی سی (IMPCC) اجلاس کے دوران نارتھ ایسٹ سینٹر فار ٹیکنالوجی ایپلی کیشن اینڈ ریچ (نیکٹر) نے خطے کے کسانوں اور دور دراز علاقوں میں بسنے والی برادریوں کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی انقلابی حل پیش کیے ہیں۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ٹیکنالوجی کے درست استعمال سے نہ صرف پیداوار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے بلکہ کسانوں کو درپیش مسائل کا حل بھی تلاش کیا جا سکتا ہے۔ نیکٹر کی جانب سے متعارف کرائی گئی موبائل لیبز اس سلسلے میں ایک اہم پیشرفت ہیں، جو براہ راست کھیتوں تک پہنچ کر مٹی کے معیار اور فصلوں کی بیماریوں کی فوری تشخیص میں مدد فراہم کریں گی۔
اس کے علاوہ، نیکٹر نے خطے میں زعفران کی کاشت کے ایک خصوصی منصوبے کا خاکہ بھی پیش کیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ شمال مشرقی بھارت کی آب و ہوا اور جغرافیائی حالات زعفران جیسی قیمتی فصل کی پیداوار کے لیے انتہائی سازگار ہو سکتے ہیں۔ یہ منصوبہ مقامی کسانوں کے لیے آمدنی کا ایک نیا ذریعہ ثابت ہوگا اور خطے کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب کرے گا۔ زعفران کی کاشت کے لیے جدید تکنیکوں اور معیاری بیجوں کی فراہمی پر کام کیا جا رہا ہے تاکہ کسانوں کو بین الاقوامی معیار کی پیداوار حاصل کرنے میں مدد مل سکے۔
نیکٹر کی قیادت نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ان کا ادارہ شمال مشرقی خطے میں ٹیکنالوجی کی رسائی کو ہر سطح تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔ موبائل لیبز کا نیٹ ورک دور دراز علاقوں میں رہنے والے ان کسانوں کے لیے ایک نعمت ثابت ہوگا جنہیں اب تک جدید زرعی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں تھی۔ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف وقت کی بچت کرے گی بلکہ غلط کھادوں اور ادویات کے استعمال سے ہونے والے نقصان سے بھی کسانوں کو بچائے گی۔
مستقبل کے حوالے سے نیکٹر نے واضح کیا ہے کہ وہ مقامی یونیورسٹیوں اور زرعی تحقیقی اداروں کے ساتھ مل کر مزید ایسے منصوبے لانے کا ارادہ رکھتا ہے جو پائیدار ترقی کے اہداف کو پورا کریں۔ یہ اقدام خطے میں زرعی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا اور مقامی آبادی کو خود کفیل بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ حکام کی جانب سے اس منصوبے کو سراہا گیا ہے اور اسے شمال مشرقی بھارت کے لیے ایک خوش آئند پیشرفت قرار دیا گیا ہے۔