World
یوکرین کا روس پر بڑا فضائی حملہ، 800 سے زائد ڈرونز داغے گئے
یوکرین کی جانب سے روس پر ایک ہی دن میں 800 سے زائد ڈرونز داغ کر ایک بڑا فضائی حملہ کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی دو روز قبل ہونے والے اسی طرح کے ایک اور حملے کے بعد کی گئی ہے۔
یوکرینی افواج نے گزشتہ روز روس کے خلاف اپنے فضائی حملوں کی مہم میں تیزی لاتے ہوئے ایک بڑا حملہ کیا ہے، جس میں 800 سے زائد ڈرونز کا استعمال کیا گیا ہے۔ حکام کی جانب سے منگل کے روز جاری کردہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، یہ حملہ روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے اب تک کے سب سے بڑے ڈرون حملوں میں سے ایک ہے۔ یہ کارروائی صرف دو روز قبل کیے گئے ایک اور بڑے حملے کے تسلسل میں کی گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یوکرین اب روسی سرزمین کے اندر گہرائی تک ہدف بنانے کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی پر بہت زیادہ انحصار کر رہا ہے۔
اس بڑے پیمانے کے ڈرون حملے کے بعد روسی فضائی دفاعی نظام شدید دباؤ کا شکار دکھائی دیا ہے۔ اگرچہ روسی وزارتِ دفاع نے عام طور پر اس طرح کے حملوں کو ناکام بنانے کے دعوے کیے ہیں، لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ ڈرونز کی اتنی بڑی تعداد نے روسی سیکیورٹی تنصیبات اور دیگر حساس مقامات کو چیلنج میں ڈال دیا ہے۔ ڈرون حملوں کے علاوہ، اسی دوران روسی میزائلوں کے ذریعے بھی جوابی کارروائیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید خطرناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
یاد رہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری یہ تنازع چار برس سے زائد عرصے سے جاری ہے اور اب یہ جنگ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں دونوں جانب سے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کلیدی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ یوکرین کی جانب سے ڈرونز کے اس بڑے استعمال کا مقصد روسی فوج کی سپلائی لائنز اور عسکری اہداف کو تباہ کرنا ہے۔ دوسری جانب بین الاقوامی برادری اس بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہے، کیونکہ حملوں کا یہ سلسلہ نہ صرف فوجی تنصیبات بلکہ عام شہریوں کی زندگیوں کے لیے بھی سنگین خطرات کا باعث بن رہا ہے۔
ماہرینِ دفاع کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس طرح کے فضائی حملوں میں مزید تیزی آ سکتی ہے کیونکہ دونوں فریقین اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یوکرین مسلسل کوشش کر رہا ہے کہ وہ روس کے اندرونی علاقوں تک اپنی پہنچ کو بہتر بنائے، جبکہ روس کی جانب سے جوابی میزائل حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ ماسکو اپنی دفاعی صلاحیتوں کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کے لیے تیار ہے۔ فی الحال کسی بھی فریق کی جانب سے مذاکرات کی کوئی سنجیدہ پیشکش سامنے نہیں آئی ہے، جس سے جنگ کے طویل ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔