LIVE
Loading Breaking News...

بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی تعاون بڑھانے پر زور

News Image
امریکی سفیر سرجیو گور نے زور دیا ہے کہ بھارت اور امریکہ کو ایک حقیقی شراکت دار کے طور پر باہمی تجارتی اور ریگولیٹری مسائل حل کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے ٹیکس کے نظام میں شفافیت اور پیش گوئی کے قابل ڈھانچے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی اور سفارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے حوالے سے امریکی سفیر سرجیو گور نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ دونوں ممالک کو اپنے درمیان موجود تمام تضادات اور رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ منگل کے روز انڈو امریکن چیمبر آف کامرس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک حقیقی اور دیرینہ شراکت دار کی حیثیت سے دونوں ممالک کو ایسے مسائل کی نشاندہی کرنی چاہیے جو تجارتی عمل میں مشکلات کا باعث بن رہے ہیں۔ سرجیو گور نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ کاروباری طبقے کے لیے سب سے اہم بات ایک ایسا ماحول ہے جس میں ٹیکس کے قوانین اور ریگولیٹری فریم ورک پیش گوئی کے قابل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ٹیکس کا نظام شفاف اور کاروبار دوست نہیں ہوگا، تب تک نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور تجارتی سرگرمیوں میں وہ رفتار نہیں آ سکتی جس کی دونوں ممالک توقع رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر یقینی صورتحال کاروبار کو متاثر کرتی ہے، لہذا دونوں حکومتوں کو مل کر ایسے پالیسی اقدامات کرنے چاہئیں جو سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کریں۔ مزید برآں، امریکی سفیر نے بھارت کی بڑھتی ہوئی معاشی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور بھارت کے درمیان ٹیکنالوجی، دفاع اور تجارت کے شعبوں میں تعاون کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ تاہم، ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے پالیسی سازی کے عمل میں تسلسل اور یکسانیت کا ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکہ اپنے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ عالمی سطح پر معاشی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ اختتامی کلمات میں سرجیو گور نے کہا کہ تجارتی رکاوٹوں کا حل نہ صرف دونوں ممالک کی معیشتوں کے لیے فائدہ مند ہوگا بلکہ یہ عالمی سپلائی چین اور علاقائی خوشحالی پر بھی مثبت اثرات مرتب کرے گا۔ انہوں نے کاروباری رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ ان تجارتی پالیسیوں میں اصلاحات کے لیے اپنی تجاویز دیں تاکہ حکومتوں کے ساتھ مل کر ایک ایسا لائحہ عمل تیار کیا جا سکے جو طویل مدتی معاشی اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہو۔