LIVE
Loading Breaking News...

مقبوضہ کشمیر پر امریکی سفیر کا بیان: پاکستان کا سخت سفارتی ردعمل

News Image
پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے امریکی سفیر کے متنازع بیانات پر واشنگٹن کے سامنے سخت سفارتی احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ کشمیر ایک عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے جس کی حیثیت تبدیل نہیں کی جا سکتی۔
پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے بارے میں امریکی سفیر کے حالیہ دورے اور وہاں دیے گئے بیانات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے باضابطہ طور پر امریکی حکومت کو ایک سخت ڈیمارش جاری کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ذرائع کے مطابق، اسلام آباد میں امریکی سفارتی حکام کو طلب کر کے اس بات پر سخت احتجاج کیا گیا کہ امریکی سفیر کا سری نگر کا دورہ اور وہاں کشمیر کی صورتحال پر تبصرہ کرنے کا اقدام حقائق کے منافی اور سفارتی آداب کے برعکس ہے۔ پاکستان نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے اور اس کی حیثیت کو کسی بھی یکطرفہ بیان یا اقدام سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی امور کے ماہرین اور تجزیہ کاروں کا یہ ماننا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے لیے امریکی سفری ایڈوائزری میں نرمی بھارت کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس قسم کے اقدامات مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہیں، جس کی پاکستان طویل عرصے سے مخالفت کرتا رہا ہے۔ قانون دانوں کا کہنا ہے کہ کشمیر کے متنازعہ ہونے کی حیثیت قانونی طور پر مسلمہ ہے اور اسے کسی بھی سیاسی بیان سے تبدیل کرنے کی کوشش عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ دفتر خارجہ کے حکام نے اپنے ردعمل میں اس بات پر زور دیا کہ کشمیر کا حتمی فیصلہ صرف اور صرف کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق استصواب رائے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ پاکستان نے واشنگٹن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرے اور ایسے بیانات سے گریز کرے جو خطے میں کشیدگی بڑھانے اور بھارت کے بیانیے کو تقویت دینے کا باعث بنیں۔ اسلام آباد کا مؤقف رہا ہے کہ عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت کرنی چاہیے، نہ کہ ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جو تنازعہ کے حل کی راہ میں رکاوٹ بنیں۔