World
شام میں کشیدگی اور اسرائیل کے حملے، عالمی ردعمل اور تجزیہ
شام کے فضائی اڈے پر حالیہ اسرائیلی حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے، جس پر ترکی اور پاکستان نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ عالمی مبصرین کا ماننا ہے کہ شام میں دیرپا امن کی بحالی کیلئے امریکہ کا اسرائیل پر سفارتی دباؤ ڈالنا ناگزیر ہے۔
شام کے ایک اہم فضائی اڈے پر اسرائیل کی جانب سے کیے گئے تازہ ترین فضائی حملوں نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو ایک بار پھر نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ اسرائیل نے اپنے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ترکی اس اڈے پر اپنی فوجیں تعینات کرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا، تاہم ترکی نے ان دعووں کو مسترد کرتے ہوئے اسے غیر ذمہ دارانہ اور ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ عالمی برادری بالخصوص خطے کے ممالک نے اس کارروائی کو بلا اشتعال قرار دیتے ہوئے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان نے شام میں ہونے والے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ اس طرح کی یکطرفہ کارروائیاں پہلے سے ہی بحرانوں کا شکار شام میں حالات کو مزید بگاڑنے کا سبب بنیں گی اور اس سے انسانی المیے میں اضافہ ہوگا۔ دوسری جانب امریکہ نے بھی اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے غیر ضروری کشیدگی کے بڑھنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا یہ ماننا ہے کہ صرف بیانات کافی نہیں ہیں۔
بین الاقوامی سفارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ شام میں جاری تنازع کے حل اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کیلئے امریکہ کا اسرائیل پر براہ راست دباؤ ڈالنا انتہائی ضروری ہے۔ واشنگٹن کے پاس اتنی سفارتی طاقت موجود ہے کہ وہ اسرائیل کو ایسی مہم جوئی سے باز رکھ سکے جو وسیع تر جنگ کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ اگر امریکہ نے اپنے اتحادی پر دباؤ نہ ڈالا تو شام میں جاری جاری کشیدگی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، جس کے اثرات پڑوسی ممالک سمیت پورے خطے کی سلامتی پر مرتب ہوں گے۔
مستقبل کے حوالے سے یہ بات واضح ہے کہ عسکری کارروائیاں مسائل کا حل نہیں ہیں۔ شام کے بحران کو ختم کرنے کیلئے ایک جامع سیاسی مذاکرات کا عمل شروع کرنے کی ضرورت ہے جس میں تمام فریقین شامل ہوں۔ عالمی طاقتوں کو اپنی ترجیحات کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا تاکہ کسی بھی ملک کی خودمختاری کو پامال ہونے سے بچایا جا سکے اور خطے میں امن کی بحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔