World
ایران کی یورپی ممالک کو وارننگ، میزائل حملوں کا خطرہ بڑھ گیا
ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فوجی جارحیت کی گئی تو تہران یورپ میں موجود اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس دھمکی کے بعد نیٹو اور دیگر یورپی ممالک نے اپنی سکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔
ایران کی جانب سے یورپی ممالک کو ایک سخت پیغام جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر کسی قسم کا فوجی حملہ کیا یا جارحیت کا مظاہرہ کیا تو تہران کے میزائل براہ راست یورپ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث خطے میں جنگ کے بادل چھائے ہوئے ہیں اور مغربی طاقتیں بھی اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کر رہی ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ اقدام دفاعی نوعیت کا ہوگا تاکہ حملہ آور کو اس کے سنگین نتائج سے آگاہ کیا جا سکے۔ رپورٹوں کے مطابق ایران نے یورپ میں موجود ان فوجی اڈوں اور تنصیبات کی نشاندہی کی ہے جنہیں ممکنہ جوابی کارروائی کے طور پر نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس دھمکی کے بعد سے یورپی دارالحکومتوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور نیٹو (NATO) نے بھی اپنے اتحادیوں کے تحفظ کے لیے سکیورٹی انتظامات کو مزید سخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بلجیم اور بلغاریہ سمیت دیگر ممالک نے اپنے فضائی اڈوں پر حفاظتی اقدامات میں اضافہ کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ دوسری جانب، ایک ایرانی قانون ساز نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ اگر امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال کیا جاتا ہے تو تہران بھی اسی نوعیت کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ اگرچہ تہران کا اصرار ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ملکی خودمختاری اور تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان دراصل امریکا اور اس کے اتحادیوں پر دباؤ ڈالنے کی ایک کوشش ہے تاکہ ٹرمپ انتظامیہ کی ممکنہ سخت پالیسیوں کو محدود کیا جا سکے۔ عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، تاہم خطے کے حالات بدستور غیر یقینی کا شکار ہیں۔