LIVE
Loading Breaking News...

بی ٹی ایس کا گریمی بائیکاٹ اور منتظمین کا ردعمل

News Image
مشہور کوریائی پاپ بینڈ بی ٹی ایس کی جانب سے گریمی ایوارڈز میں نئے ایشین پاپ کیٹیگری میں شرکت نہ کرنے کے اعلان کے بعد منتظمین کی طرف سے ردعمل سامنے آیا ہے۔ بینڈ کے اس قدم کے بعد موسیقی کی دنیا میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
عالمی شہرت یافتہ ساؤتھ کورین پاپ بینڈ 'بی ٹی ایس' نے گریمی ایوارڈز میں متعارف کروائی جانے والی نئی 'ایشین پاپ' کیٹیگری کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد گریمیز کے منتظمین اور حکام کی جانب سے اہم ردعمل سامنے آیا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق بی ٹی ایس نے 2027 کے گریمی ایوارڈز کے لیے اپنی نامزدگیوں کو جمع نہ کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جو اس نئے زمرے کے اعلان کے محض ایک ماہ بعد سامنے آیا ہے۔ بینڈ کے اس فیصلے کو موسیقی کی صنعت میں ایک بڑا قدم تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ بی ٹی ایس کے لاکھوں مداح دنیا بھر میں موجود ہیں۔ اس معاملے پر گریمی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہاروے میسن جونیئر نے بھی خاموشی توڑتے ہوئے اس صورتحال پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اکیڈمی تمام ایشیائی فنکاروں کے ساتھ بات چیت کرنے اور ان کے خدساتی امور کو سمجھنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ موسیقی کے تنوع کا احترام کرتے ہیں اور کسی بھی کمیونٹی یا فنکار کو الگ تھلگ محسوس نہیں ہونے دینا چاہتے، تاہم نئے زمروں کی تخلیق کا مقصد ایشین موسیقی کو عالمی سطح پر مزید فروغ دینا تھا۔ موسیقی کے مبصرین کا ماننا ہے کہ بی ٹی ایس کا یہ فیصلہ ایشیائی فنکاروں کے ساتھ ہونے والی درجہ بندی اور شناخت کے تنازعات سے جڑا ہو سکتا ہے۔ بینڈ کے اس بائیکاٹ کے بعد اب دیگر ایشین فنکاروں کی طرف سے بھی اس کیٹیگری پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں گریمی انتظامیہ اور بی ٹی ایس کے درمیان اس مبینہ تنازع کو حل کرنے کے لیے مزید مذاکرات متوقع ہیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے مسائل سے بچا جا سکے اور تمام عالمی فنکاروں کو برابر کا پلیٹ فارم فراہم کیا جا سکے۔