Business
پاکستان کی جولائی میں برآمدات اور تجارتی خسارے کی تازہ ترین صورتحال
پاکستان کی برآمدات میں گزشتہ برس کے مقابلے میں جولائی کے دوران 10.4 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے باوجود درآمدات میں اضافے کی وجہ سے ملکی تجارتی خسارہ 3.98 ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ گیا ہے۔
پاکستان کی معیشت کے لیے جولائی کا مہینہ ملے جلے نتائج کا حامل رہا ہے۔ ادارہ شماریات پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی کے مہینے میں ملکی برآمدات میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 10.4 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے، جو ملکی برآمدی شعبے کے لیے ایک حوصلہ افزا علامت ہے۔ ماہانہ بنیادوں پر دیکھا جائے تو برآمدات میں 32 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور ان کا حجم 2.96 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ برآمدات میں اس اضافے کو عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی طلب میں بہتری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تاہم، برآمدات میں اضافے کے باوجود ملک کو تجارتی خسارے کے چیلنج کا سامنا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، جولائی میں تجارتی خسارہ 3.98 ارب ڈالر تک وسیع ہو گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ درآمدات کا حجم بڑھنا ہے۔ اسی عرصے کے دوران پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 328 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ درآمدی بل میں اضافہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ ڈالتا ہے، جسے کنٹرول کرنے کے لیے حکومتی سطح پر مربوط پالیسیوں کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب، ریئل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ (REER) آٹھ سال کی بلند ترین سطح 107.92 پر پہنچ گیا ہے۔ کرنسی کی قدر میں ہونے والی یہ تبدیلی برآمد کنندگان کے لیے جہاں ایک چیلنج ہے وہیں اس سے درآمدی لاگت پر بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ حکومت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان ان معاشی اشاریوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ ملکی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے اور تجارتی توازن کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔ آنے والے مہینوں میں برآمدات کے تسلسل اور درآمدات پر کنٹرول ہی ملکی معاشی استحکام کی ضمانت ثابت ہوگا۔