World
ملکہ کمیلا کی شاہ چارلس کی بیماری کے بارے میں جذباتی گفتگو
ملکہ کمیلا نے انکشاف کیا ہے کہ بادشاہ چارلس کے کینسر کی تشخیص کے بعد عوامی اعلان سے قبل کے دن انتہائی کٹھن اور جذباتی تھے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ایک طرف عوام کے سامنے مسکرانا اور دوسری طرف اس بڑی خبر کو خفیہ رکھنا ایک بڑا چیلنج تھا۔
برطانیہ کی ملکہ کمیلا نے حال ہی میں ایک جذباتی گفتگو کے دوران ان مشکل ایام کا ذکر کیا ہے جب کنگ چارلس کے کینسر کی تشخیص ہوئی تھی اور یہ خبر تاحال عوام تک نہیں پہنچائی گئی تھی۔ ملکہ نے اعتراف کیا کہ شاہی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے اس انتہائی حساس اور پریشان کن حقیقت کو خفیہ رکھنا ان کے لیے کسی بڑے امتحان سے کم نہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک جانب انہیں عوامی تقریبات میں شرکت کرنی تھی اور مسکراتے ہوئے لوگوں سے ملنا تھا، جبکہ دوسری جانب ان کا دل ایک انتہائی تکلیف دہ راز بوجھ کی طرح دبائے ہوئے تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ملکہ کمیلا نے ان لمحات کی شدت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ دور ان کے لیے ذہنی طور پر انتہائی تھکا دینے والا تھا۔ شاہی محل کے ذرائع کے مطابق یہ وقت شاہی خاندان کے لیے ایک آزمائش تھا کیونکہ بادشاہ کی صحت کے بارے میں قیاس آرائیاں عروج پر تھیں، تاہم محل کی جانب سے ابھی کسی بھی بات کی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔ ملکہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شاہی خاندان کو اپنی کارکردگی اور مواصلاتی حکمت عملی پر تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے، جس میں یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ آیا محل نے اس سنگین خبر کو سنبھالنے میں کوئی غلطی کی۔
اس معاملے پر دیگر شاہی ماہرین اور تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ملکہ کمیلا نے نہ صرف اپنے شوہر کی اخلاقی مدد کی بلکہ انہوں نے اس مشکل وقت میں شاہی وقار کو بھی برقرار رکھنے کی پوری کوشش کی۔ بادشاہ چارلس کے کینسر کے اعلان کے بعد دنیا بھر سے انہیں نیک خواہشات کے پیغامات موصول ہوئے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عوام اور دنیا بھر کے رہنما ان کی جلد صحت یابی کے لیے پرامید ہیں۔ ملکہ کمیلا کا یہ اعتراف ان کے شوہر کے ساتھ گہری وابستگی اور شاہی فرائض کے تئیں ان کی ذمہ داری کی عکاسی کرتا ہے، جس نے برطانیہ کے عوام کے دلوں میں ان کے لیے ہمدردی کے جذبات کو مزید بڑھا دیا ہے۔