LIVE
Loading Breaking News...

شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی پیشکش پر ردعمل

News Image
شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی بہن کم یو جونگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مذاکرات کے دعووں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے دوستانہ تعلقات یا بات چیت کا فی الحال کوئی امکان نہیں ہے۔
شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن کی بااثر بہن کم یو جونگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ شمالی کوریا کے رہنما نے مذاکرات کی امریکی پیشکش پر مثبت ردعمل دیا ہے۔ کم یو جونگ نے اپنے حالیہ بیان میں اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت کا کوئی امکان نہیں ہے اور شمالی کوریا کی جانب سے مذاکرات کے حوالے سے کوئی پیغام نہیں بھیجا گیا ہے۔ انہوں نے امریکی انتظامیہ کی پالیسیوں کو 'مخالفانہ' قرار دیتے ہوئے اپنے موقف کو دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ کی جانب سے بارہا شمالی کوریا کے ساتھ جوہری اور میزائل پروگراموں پر بات چیت کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ماضی میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کے اور کم جونگ اُن کے درمیان ذاتی تعلقات بہتر ہیں اور وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ تاہم، پیانگ یانگ کی جانب سے آنے والے اس ردعمل نے ان تمام دعووں پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ شمالی کوریا کا ماننا ہے کہ امریکہ کی مذاکرات کی پیشکشیں صرف ایک سیاسی ڈرامہ ہیں جن کا مقصد شمالی کوریا پر دباؤ برقرار رکھنا ہے۔ کم یو جونگ نے اپنے سخت گیر لہجے میں کہا کہ امریکہ کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ شمالی کوریا اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے واشنگٹن کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں اور مشترکہ فوجی مشقوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک امریکہ اپنی مخالفانہ پالیسیوں میں تبدیلی نہیں لاتا، تب تک کسی بھی قسم کے مذاکرات بے سود ہیں۔ یہ صورتحال ایک بار پھر جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی کے خدشات کو بڑھا رہی ہے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ کئی برسوں سے سفارتی ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ اس پیش رفت کے بعد عالمی برادری کی نظریں اب امریکی ردعمل پر مرکوز ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کا یہ تازہ بیان نہ صرف امریکہ بلکہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک پیغام ہے کہ پیانگ یانگ اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا بائیڈن انتظامیہ یا امریکی قیادت اس مسترد کیے جانے کے بعد اپنی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی لاتی ہے یا کشیدگی کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہتا ہے۔