LIVE
Loading Breaking News...

غزہ میں اسرائیلی بمباری سے ہلاکتیں، حماس کا سخت ردعمل

News Image
اسرائیلی فوج نے غزہ میں پولیس ہیڈکوارٹر اور مہاجر کیمپ کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 10 فلسطینی جاں بحق ہو گئے۔ حماس نے ان کارروائیوں کو ایک نیا جنگی جرم قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
غزہ کی پٹی میں جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی فوج کی جانب سے کی گئی حالیہ فضائی کارروائیوں میں کم از کم 10 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔ یہ حملے غزہ کے گنجان آباد علاقوں کو نشانہ بنا کر کیے گئے، جس سے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پھیل گئی۔ مقامی حکام کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے پولیس ہیڈکوارٹرز اور ایک پناہ گزین کیمپ کو اپنے حملوں کا ہدف بنایا، جہاں شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب پہلے ہی غزہ کے رہائشی بنیادی سہولیات کی شدید قلت اور مسلسل بمباری کا سامنا کر رہے ہیں۔ حماس نے ان تازہ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں ایک نیا 'جنگی جرم' قرار دیا ہے۔ حماس کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل کی جانب سے عوامی مقامات، پولیس دفاتر اور مہاجر کیمپوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس کا مقصد نہتے فلسطینیوں کی زندگی کو مزید مشکل بنانا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ عالمی برادری کی خاموشی ہی اسرائیل کو اس طرح کے مظالم جاری رکھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ دوسری جانب طبی عملے اور امدادی کارکنوں نے حملے کے مقامات پر پہنچ کر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا ہے، تاہم ملبے تلے دبے مزید افراد کی ہلاکتوں کا خدشہ بدستور برقرار ہے۔ ہسپتالوں میں زخمیوں کی بڑی تعداد لائی گئی ہے جن میں بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد شامل ہے۔ طبی سہولیات کی کمی کے باعث ڈاکٹروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور ادویات کا ذخیرہ بھی تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایک بار پھر جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے غزہ میں جاری انسانی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گنجان آباد علاقوں پر فضائی حملوں کا نتیجہ عام شہریوں کی بڑی تعداد میں شہادتوں کی صورت میں نکلتا ہے، جو کہ کسی بھی طرح قابل قبول نہیں۔ صورتحال تاحال کشیدہ ہے اور مزید فضائی حملوں کے خدشے کے پیش نظر مقامی آبادی میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے۔