World
امریکی نیوی جنگی جہاز ڈیزائن تنازعہ: ٹرمپ کی مداخلت پر ماہرین کی تنقید
سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی بحریہ کے جیرالڈ آر فورڈ کلاس طیارہ بردار جہازوں کے ڈیزائن کو تبدیل کرنے کی خواہش پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی تکنیکی امور میں مداخلت بحری فوج کے جدید نظام اور تیاریوں کو دہائیوں پیچھے دھکیل سکتی ہے۔
حال ہی میں دی واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ نے امریکی دفاعی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے، جس کے مطابق سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی بحریہ کے جیرالڈ آر فورڈ کلاس کے طیارہ بردار جہازوں کے ڈیزائن کو تبدیل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کی خواہش ہے کہ ان جہازوں کے جزیرہ نما کنٹرول ٹاور کو جہاز کے وسطی حصے کے قریب منتقل کیا جائے، جس کا بنیادی مقصد جہاز کی ظاہری خوبصورتی یا ان کی ذاتی جمالیاتی پسند کو پورا کرنا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف غیر منطقی ہے بلکہ اس سے امریکی بحریہ کی آپریشنل صلاحیتوں پر گہرے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، طیارہ بردار جہازوں کا ڈیزائن دہائیوں کی تحقیق، انجینئرنگ اور ٹیسٹنگ کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ان جہازوں کے اوپر بنے جزیرہ نما ٹاور کا موجودہ مقام اس کی ایروڈائنامکس اور ڈیک پر موجود طیاروں کی نقل و حرکت کے لیے انتہائی احتیاط سے طے کیا گیا ہے۔ اگر اس ڈیزائن کو محض کسی سیاسی شخصیت کی ذاتی ترجیح پر تبدیل کیا گیا، تو اس سے پورے جہاز کا توازن اور جنگی استعداد متاثر ہو سکتی ہے۔ اس طرح کی تبدیلیوں کے لیے دوبارہ ڈیزائننگ، نئے سرے سے ٹیسٹ اور اربوں ڈالر کے اضافی اخراجات درکار ہوں گے، جو کہ بحریہ کے بجٹ اور وقت کا ضیاع ہوگا۔
دفاعی ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ اگر سیاست دان عسکری انجینئرنگ کے تکنیکی فیصلوں میں مداخلت شروع کر دیں گے تو اس سے ادارے کا معیار گر جائے گا۔ یہ اقدام امریکی بحریہ کو جدید دور کے چیلنجوں سے نمٹنے کے بجائے تکنیکی طور پر دہائیوں پیچھے لے جا سکتا ہے۔ جیرالڈ آر فورڈ کلاس کے جہاز اپنی نوعیت کے جدید ترین جہاز ہیں اور ان کے ڈیزائن میں تبدیلی کا مطلب ان کی آپریشنل افادیت کو خطرے میں ڈالنا ہے۔ امریکی بحریہ کے حکام کی جانب سے اس حوالے سے مزید وضاحت کا انتظار ہے، تاہم دفاعی ماہرین اسے عسکری معاملات میں سیاسی مداخلت کی ایک خطرناک مثال قرار دے رہے ہیں۔