Technology
مصنوعی ذہانت اور ہیلتھ کیئر: ایڈریس کمپنی کا نیا میڈیکل کلیم سسٹم
ایڈریس (ADRES) کمپنی نے مصنوعی ذہانت کے جدید ٹولز کا استعمال کرتے ہوئے ٹریفک حادثات کے میڈیکل کلیمز کی جانچ پڑتال کے عمل کو تیز تر بنا دیا ہے۔ اس نئے سسٹم کا نام PAACME رکھا گیا ہے جو حادثات کے متاثرین کے علاج کے بلوں کو درستگی کے ساتھ پروسیس کرنے میں مدد دیتا ہے۔
جدید ٹیکنالوجی کے دور میں ہیلتھ کیئر اور انشورنس کے شعبوں میں مصنوعی ذہانت کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اسی سلسلے میں ایڈریس (ADRES) نامی کمپنی نے ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے میڈیکل کلیمز کی آڈٹنگ کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی جدید نظام متعارف کرایا ہے۔ یہ نیا سسٹم 'BLEND' نامی پلیٹ فارم کی مدد سے تیار کیا گیا ہے، جس کا مقصد طبی بلوں کی جانچ پڑتال کے پیچیدہ عمل کو خودکار بنانا اور اس میں انسانی غلطیوں کے امکان کو ختم کرنا ہے۔ اس جدید ٹیکنالوجی کو PAACME (Automatic Processing and Analysis of Medical Claims) کا نام دیا گیا ہے۔
PAACME سسٹم بنیادی طور پر ان ٹریفک حادثات کے کیسز پر توجہ مرکوز کرتا ہے جن میں متاثرہ افراد کو علاج کے لیے انشورنس یا دیگر طبی سہولیات کی فوری ضرورت ہوتی ہے۔ خاص طور پر ایسے حادثات جہاں گاڑیاں انشورڈ نہیں ہوتیں، یا گاڑیوں کی شناخت ممکن نہیں ہوتی، یا پھر ہٹ اینڈ رن (hit-and-run) کے واقعات پیش آتے ہیں، وہاں یہ سسٹم نہایت موثر ثابت ہوتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی طبی ریکارڈز کا باریک بینی سے جائزہ لیتی ہے اور انشورنس کمپنیوں کو درست اور بروقت معلومات فراہم کرتی ہے تاکہ متاثرین کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
کمپنی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ روایتی طریقہ کار میں میڈیکل کلیمز کو منظور کروانے اور ان کا آڈٹ کرنے میں ہفتوں کا وقت لگ جاتا تھا، جس سے متاثرین کی مشکلات میں اضافہ ہوتا تھا۔ تاہم، اب مصنوعی ذہانت کے استعمال سے یہ تمام مراحل چند منٹوں میں مکمل ہو سکتے ہیں۔ اس سسٹم کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ڈیٹا کا تجزیہ انتہائی درستگی کے ساتھ کرتا ہے اور کسی بھی قسم کی مشکوک ٹرانزیکشن یا کلیم کی فوری نشاندہی کر دیتا ہے۔ یہ پیشرفت طبی انشورنس کے شعبے میں شفافیت لانے کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔
مستقبل کے حوالے سے کمپنی کے حکام کا کہنا ہے کہ اس سسٹم کو مزید جدید بنانے پر کام جاری ہے تاکہ اسے دیگر ہیلتھ کیئر اداروں اور اسپتالوں کے ساتھ منسلک کیا جا سکے۔ مصنوعی ذہانت کا یہ جدید استعمال نہ صرف انشورنس کمپنیوں کے اخراجات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے بلکہ مریضوں کو بروقت ریلیف فراہم کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے وقتوں میں ہیلتھ کیئر ٹیکنالوجی میں یہ تبدیلی پوری دنیا کے طبی نظام میں ایک نئی روح پھونک دے گی۔