LIVE
Loading Breaking News...

سگنل ٹریس ٹیکنالوجی: آپ کی کار اور فون ٹریکنگ کا نیا خطرہ

News Image
محققین نے ایک نئی ٹیکنالوجی سگنل ٹریس دریافت کی ہے جو روڈ سائیڈ سینسرز کے ذریعے کاروں اور ان میں موجود موبائل ڈیوائسز کے باہمی تعلق کو ٹریک کر سکتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی صارفین کی پرائیویسی اور ڈیٹا سکیورٹی کے حوالے سے نئے خدشات کو جنم دے رہی ہے۔
جدید دور میں ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ پرائیویسی کے مسائل بھی سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں سامنے آنے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق ’سگنل ٹریس‘ نامی ایک تکنیک کے ذریعے سڑک کنارے لگے سینسرز اب آپ کی گاڑی اور اس میں موجود آپ کے موبائل ڈیوائسز کے درمیان تعلق کو باآسانی پہچان سکتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی بنیادی طور پر بلوٹوتھ، وائی فائی اور دیگر وائرلیس سگنلز کی ریڈیو فریکوئنسیز کا استعمال کرتی ہے تاکہ ان ڈیوائسز کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا جا سکے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ روزانہ ایک ہی راستے پر سفر کرتے ہیں یا کار پولنگ کرتے ہیں تو آپ کے فون سے خارج ہونے والے سگنلز کے ذریعے آپ کی ذاتی شناخت اور سفری عادات کا ڈیٹا جمع کیا جا سکتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے کام کرنے کا طریقہ کار انتہائی پیچیدہ اور پریشان کن ہے۔ جب کوئی گاڑی کسی ایسے سڑک کے سینسر کے قریب سے گزرتی ہے جو اس سگنل ٹریس سسٹم سے لیس ہو، تو وہ سینسر گاڑی میں موجود تمام الیکٹرانک ڈیوائسز کے سگنلز کو 'اسکین' کر لیتا ہے۔ یہ سسٹم ان ڈیوائسز کے منفرد میک ایڈریس یا سگنل پیٹرنز کو نوٹ کر لیتا ہے، جس سے یہ معلوم کرنا ممکن ہو جاتا ہے کہ کون سا شخص کس گاڑی میں سفر کر رہا ہے۔ محققین کے مطابق، یہ ٹیکنالوجی نہ صرف ٹریفک مینجمنٹ کے لیے کارآمد ہو سکتی ہے بلکہ اس کا غلط استعمال صارفین کی نجی زندگی میں مداخلت کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ خاص طور پر ایسے افراد کے لیے جو اپنی نقل و حرکت کو خفیہ رکھنا چاہتے ہیں، یہ ایک بڑا سکیورٹی رسک ہے۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ڈیٹا اکٹھا کرنے والی کمپنیاں اور حکومتی ادارے بھی اس ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جس سے نجی زندگی کا تصور مزید کمزور ہو جائے گا۔ اگرچہ اس نظام کے کئی فوائد ہیں، جیسا کہ ٹریفک جام سے بچاؤ اور سفری وقت میں کمی، لیکن پرائیویسی کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ صارفین کو اپنے فون کے وائرلیس سگنلز پر کنٹرول ہونا چاہیے۔ اس وقت دنیا بھر میں اس طرح کے جدید سرویلنس سسٹمز کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ڈیٹا پروٹیکشن کے قوانین کو مزید سخت کیا جائے تاکہ عام شہری کی ڈیجیٹل شناخت محفوظ رہ سکے۔ صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ عوامی مقامات پر اپنے فون کے وائی فائی اور بلوٹوتھ کو ضرورت نہ ہونے کی صورت میں بند رکھیں۔