LIVE
Loading Breaking News...

پورٹو ریکو میں امریکی فوجی اڈے: مقامی ماؤں کی سخت مزاحمت

News Image
پورٹو ریکو میں مقامی مائیں اور سماجی کارکنان جزیرے پر امریکی فوجی اڈوں کی دوبارہ بحالی کے خلاف پرامن احتجاج کر رہے ہیں۔ مظاہرین کا ماننا ہے کہ ان اڈوں کی موجودگی سے علاقے کا امن اور ماحولیاتی توازن خطرے میں پڑ جائے گا۔
پورٹو ریکو میں مقامی ماؤں اور سماجی کارکنوں کا ایک مضبوط گروہ جزیرے پر امریکی فوجی اڈوں کی دوبارہ بحالی کے منصوبوں کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ یہ تحریک اس وقت سے جاری ہے جب امریکی حکام نے پورٹو ریکو کے اسٹریٹجک علاقوں میں اپنی فوجی موجودگی کو بڑھانے یا پرانے اڈوں کو فعال کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ مقامی خواتین، جنہیں 'اینٹی وار مدرز' (Antiwar Mothers) کے طور پر جانا جاتا ہے، کا مؤقف ہے کہ یہ فوجی اڈے نہ صرف مقامی خودمختاری پر حملہ ہیں بلکہ اس سے جزیرے کے ماحولیاتی نظام اور مقامی آبادی کی زندگیوں پر بھی تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ اس مزاحمتی تحریک کی بنیاد 2003 کے اس واقعے پر رکھی گئی تھی جب مقامی لوگوں نے ویئکس (Vieques) میں امریکی بحریہ کی جانب سے بمباری کی مشقوں کے خلاف طویل احتجاج کیا تھا۔ آج کی نئی نسل بھی اپنی ماؤں کی تقلید کرتے ہوئے اسی عزم کا اظہار کر رہی ہے کہ وہ اپنے جزیرے کو جنگی میدان بننے نہیں دیں گے۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کی موجودگی کا مطلب مقامی وسائل کا استحصال اور علاقے میں کشیدگی کا بڑھنا ہے۔ ان کے مطابق، پورٹو ریکو کے باشندے پہلے ہی دہائیوں تک امریکی فوجی مشقوں کے منفی اثرات بھگت چکے ہیں اور اب وہ مزید کسی بھی فوجی سرگرمی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ ان علاقوں کو فوجی مقاصد کے بجائے صحت، تعلیم اور ماحولیاتی تحفظ کے منصوبوں کے لیے استعمال کیا جائے۔ اس تحریک کو نہ صرف پورٹو ریکو بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی حمایت حاصل ہو رہی ہے، جہاں امن پسند تنظیمیں اس جدوجہد کو استعمار مخالف تحریک کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔ سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ تحریک اس بات کی عکاس ہے کہ جب مائیں اور مقامی کمیونٹی اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے پر اتر آئیں تو طاقتور ترین فوجوں کو بھی اپنے عزائم سے پیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔ فی الحال صورتحال کشیدہ ہے اور حکومتی سطح پر ان مطالبات کو دبانے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔ تاہم، پورٹو ریکو کی مائیں اپنے مؤقف پر ڈٹی ہوئی ہیں اور انہوں نے واضح کر دیا ہے کہ وہ تب تک چین سے نہیں بیٹھیں گی جب تک حکومت ان کے جزیرے پر فوجی اڈوں کے قیام کے منصوبوں کو مکمل طور پر ترک نہیں کر دیتی۔ یہ تحریک صرف پورٹو ریکو کے لیے نہیں بلکہ دنیا بھر میں فوجی اڈوں کے خلاف اٹھنے والی ایک طاقتور آواز بن چکی ہے۔