Business
فابرینیٹ اسٹاک میں بھاری گراوٹ، ٹیکنالوجی سیکٹر پر منفی اثرات
ٹیکنالوجی کمپنی فابرینیٹ کے سہ ماہی مالیاتی نتائج اور مستقبل کی کمزور گائیڈنس کے بعد کمپنی کے حصص میں 20 فیصد کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی۔ اس مندی نے مارویل، ایمپینول اور کوہرنٹ جیسی بڑی کمپنیوں کے شیئر مارکیٹ ویلیو پر بھی منفی اثر ڈالا ہے۔
عالمی اسٹاک مارکیٹ میں ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ معروف کمپنی فابرینیٹ (Fabrinet) کے حصص میں اچانک 20 فیصد کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ یہ مندی اس وقت رونما ہوئی جب کمپنی نے اپنی پہلی سہ ماہی کے لیے مایوس کن مالیاتی گائیڈنس جاری کی، جس نے سرمایہ کاروں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس زبردست گراوٹ سے قبل فابرینیٹ کے حصص میں آمدنی کی رپورٹ آنے سے پہلے ہی 25 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا تھا، تاہم بعد کی صورتحال نے تیزی کے اس رجحان کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔
فابرینیٹ کی جانب سے جاری کردہ انتباہی نتائج کا اثر نہ صرف کمپنی تک محدود رہا بلکہ اس نے پوری سپلائی چین اور متعلقہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق اس صورتحال کے نتیجے میں مارویل (Marvell) کے حصص میں 8 فیصد اور ایمپینول (Amphenol) کے شیئر میں 7 فیصد تک کی کمی واقع ہوئی۔ ان کمپنیوں کے سرمایہ کاروں میں اس خبر کے بعد خوف و ہراس پایا گیا اور بڑی تعداد میں شیئرز کی فروخت دیکھی گئی جس سے ان کمپنیوں کی مارکیٹ کیپیٹلائزیشن میں نمایاں کمی آئی ہے۔
صرف مارویل اور ایمپینول ہی نہیں بلکہ کوہرنٹ (Coherent) اور لومنٹم (Lumentum) جیسی کمپنیوں کو بھی شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹس کے مطابق کوہرنٹ کے حصص 12 فیصد اور لومنٹم کے حصص میں 10 فیصد تک کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی سیکٹر میں یہ گراوٹ دراصل طلب میں کمی اور مستقبل کے غیر یقینی معاشی حالات کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔ سرمایہ کار اب محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں ٹیکنالوجی اسٹاکس میں مزید اتار چڑھاؤ کی توقع کی جا رہی ہے۔
اس صورتحال نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ مارکیٹ میں کسی ایک بڑی کمپنی کے نتائج کس طرح پوری انڈسٹری پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ فابرینیٹ کی جانب سے پیش کردہ کمزور آؤٹ لک نے ان خدشات کو تقویت دی ہے کہ آنے والی سہ ماہیوں میں ٹیکنالوجی سیکٹر کو سپلائی چین کے چیلنجز اور طلب میں کمی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سرمایہ کاروں کی نظریں اب اگلی سہ ماہی کی رپورٹوں پر مرکوز ہیں تاکہ یہ جان سکیں کہ آیا یہ وقتی گراوٹ ہے یا ٹیکنالوجی سیکٹر میں طویل مدتی سستی کا آغاز۔