LIVE
Loading Breaking News...

ڈزنی کا ایف سی سی کے خلاف مقدمہ: میڈیا نیٹ ورک اور ریگولیٹر آمنے سامنے

News Image
والٹ ڈزنی کمپنی اور اے بی سی نیٹ ورک نے امریکی فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن پر انتقامی کارروائی کا الزام عائد کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ ایف سی سی کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات غیر قانونی اور متعصبانہ ہیں۔
امریکی میڈیا کی دیو ہیکل کمپنی والٹ ڈزنی اور اس کے ماتحت نشریاتی نیٹ ورک اے بی سی (ABC) نے فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن (FCC) کے خلاف امریکی ضلعی عدالت میں ایک اہم مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ یہ قانونی جنگ اس وقت شروع ہوئی جب اے بی سی نیٹ ورک اور اس کے آٹھ ملحقہ اداروں نے ایف سی سی کی جانب سے شروع کی گئی تحقیقات کو 'انتقامی' کارروائی قرار دیا۔ کمپنی کا موقف ہے کہ ریگولیٹر کی جانب سے یہ تحقیقات کسی قانونی بنیاد کے بجائے ذاتی اور سیاسی نوعیت کے دباؤ کے تحت شروع کی گئی ہیں، جس کا مقصد میڈیا ہاؤس کو ہراساں کرنا ہے۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ ایف سی سی نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے نشریاتی اداروں پر دباؤ ڈالا ہے، جو کہ آزادی اظہار رائے اور میڈیا کی خودمختاری کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ قانونی دستاویزات کے مطابق، ڈزنی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ یہ تحقیقات شفافیت کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتیں اور اس کا مقصد اے بی سی کی ادارتی پالیسیوں کو متاثر کرنا ہے۔ کمپنی نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کرے اور ایف سی سی کو اس 'امتیازی' سلوک سے باز رکھنے کے لیے احکامات جاری کرے۔ دوسری جانب، قانونی ماہرین اس مقدمے کو میڈیا اور وفاقی ریگولیٹری اداروں کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کی ایک اہم کڑی قرار دے رہے ہیں۔ واشنگٹن ڈی سی کی ضلعی عدالت میں دائر کی گئی اس درخواست میں ڈزنی نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی صحافتی آزادی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ اگرچہ ایف سی سی کی جانب سے ابھی تک کوئی تفصیلی جوابی بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ مقدمہ آنے والے دنوں میں امریکی میڈیا قوانین اور ریگولیٹری حدود کے تعین میں اہم کردار ادا کرے گا۔ یہ تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا ہے جب میڈیا انڈسٹری پہلے ہی ڈیجیٹل تبدیلی اور اشتہاری مارکیٹ کے بدلتے رجحانات کا سامنا کر رہی ہے۔ ڈزنی کی طرف سے اس مقدمے کا دائر کیا جانا جہاں ایک طرف کمپنی کی طاقتور قانونی حیثیت کو ظاہر کرتا ہے، وہیں دوسری طرف یہ ایک بڑا سوالیہ نشان بھی ہے کہ آیا سرکاری ادارے اپنی حدود سے تجاوز کر رہے ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس کیس کی سماعت کے دوران میڈیا کے حقوق اور وفاقی نگرانی کے دائرہ کار پر تفصیلی بحث متوقع ہے، جس کے اثرات پوری امریکی میڈیا انڈسٹری پر مرتب ہو سکتے ہیں۔