LIVE
Loading Breaking News...

غزہ میں نئی زمینی رکاوٹیں: اسرائیل کی طویل مدتی پالیسی پر ماہرین کے تبصرے

News Image
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ میں جاری زمینی کام سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل وہاں ایک طویل مدتی اندرونی سرحد قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ اس نئی پیشرفت کے نتیجے میں مقامی خاندانوں کی مزید نقل مکانی اور بے دخلی کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی جانب سے نئی زمینی رکاوٹوں اور دیواروں کی تعمیر کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے، جس پر بین الاقوامی ماہرین نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بی بی سی کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، غزہ کے مختلف علاقوں میں کی جانے والی زمینی تبدیلیاں اور کھدائی کا کام اس بات کا واضح ثبوت فراہم کرتا ہے کہ اسرائیلی فوج وہاں ایک طویل مدتی اندرونی سرحد یا حفاظتی زون قائم کرنے کا پختہ ارادہ رکھتی ہے۔ اس قسم کے اقدامات سے خطے کی جغرافیائی اور سیاسی صورتحال میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، جو پہلے ہی تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ تعمیراتی سرگرمیوں کے اس نئے مرحلے نے پہلے سے پریشان حال فلسطینی خاندانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ زمینی کام اور رکاوٹوں کی تعمیر کے دوران متعدد رہائشی علاقوں کو متاثر کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں مکینوں کو مجبوراََ اپنے آبائی گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی تلاش میں نکلنا پڑ رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی جبری نقل مکانی اور گھروں کی مسماری کے عمل سے انسانی بحران میں مزید شدت آئے گی، کیونکہ پہلے ہی غزہ کے لاکھوں افراد خیموں اور عارضی پناہ گاہوں میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں اور ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ زمینی رکاوٹیں صرف عقبی دفاعی حکمت عملی نہیں ہیں بلکہ یہ مستقبل میں غزہ کے اندرونی ڈھانچے کو طویل عرصے تک تقسیم رکھنے کی ایک سوچی سمچی کوشش کا حصہ ہو سکتی ہیں۔ اس صورتحال نے خطے میں مستقل امن اور جنگ بندی کی کوششوں کو بھی شدید دھچکا پہنچایا ہے، کیونکہ اس قسم کی مستقل نوعیت کی تعمیرات سے مذاکرات کی میز پر حل تلاش کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔