LIVE
Loading Breaking News...

بگ بینڈ نیشنل پارک میں تعمیرات: ٹرمپ انتظامیہ کا بڑا یو ٹرن

News Image
ٹرمپ انتظامیہ نے ٹیکساس کے مشہور بگ بینڈ نیشنل پارک میں جاری تعمیراتی کاموں پر عوامی اور سیاسی دباؤ کے بعد روک لگا دی ہے۔ کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کمشنر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ فی الحال پارک کے اندر بلڈوزنگ کا عمل معطل کر دیا گیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے ٹیکساس کے انتہائی مقبول اور تاریخی بگ بینڈ نیشنل پارک میں جاری بلڈوزنگ اور تعمیراتی سرگرمیوں کو فوری طور پر روکنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ پارک کے اندر کی جانے والی ان تعمیرات کے خلاف اٹھنے والی شدید عوامی اور سیاسی لہر کے بعد کیا گیا ہے، جسے ناقدین کی جانب سے 'انتہائی غیر مناسب' قرار دیا گیا تھا۔ امریکی محکمہ کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن (سی بی پی) کے کمشنر روڈنی اسکاٹ نے پیر کے روز ایک بیان میں اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے کہ فی الحال پارک کے مخصوص علاقے میں جاری بلڈوزنگ کے کام کو معطل کر دیا گیا ہے۔ بگ بینڈ نیشنل پارک اپنی قدرتی خوبصورتی اور جنگلی حیات کے مسکن کے طور پر عالمی سطح پر جانا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں انتظامیہ کی جانب سے یہاں تعمیراتی اقدامات اٹھائے جانے پر ماہرین ماحولیات اور قانون سازوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ دو جماعتی سطح پر ہونے والی مخالفت نے انتظامیہ کو مجبور کر دیا کہ وہ اس معاملے پر نظرثانی کرے۔ یہ منصوبہ مبینہ طور پر سرحدی سیکیورٹی کے تحت شروع کیا گیا تھا، تاہم اسے پارک کی حیاتیاتی تنوع اور قدرتی ورثے کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا جا رہا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پارک کے اندر بلڈوزر چلانے سے نہ صرف مقامی نباتات اور حیوانات کو نقصان پہنچ رہا تھا بلکہ یہ علاقہ سیاحوں کے لیے بھی اپنی کشش کھو رہا تھا۔ انتظامیہ کی جانب سے کام روکنے کے اعلان کو مقامی حلقوں نے اپنی ایک بڑی فتح قرار دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، عوامی دباؤ اور ماحولیاتی گروپوں کی جانب سے دی جانے والی قانونی دھمکیوں نے انتظامیہ کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کیا۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ تعمیراتی کام مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے یا صرف عارضی طور پر روکا گیا ہے۔ تاہم، کمشنر روڈنی اسکاٹ کا یہ بیان ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماحولیاتی تحفظ کے حامی گروپوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پارک کے اصل رقبے کو ہر قسم کی انسانی مداخلت سے محفوظ رکھا جائے تاکہ یہ قدرتی اثاثہ آنے والی نسلوں کے لیے برقرار رہے۔ حکام کی جانب سے مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں مزید تفصیلات آنے والے دنوں میں متوقع ہیں۔