LIVE
Loading Breaking News...

مراکش میں دھند سے پانی بنانے کا کامیاب تجربہ

News Image
مراکش کے پہاڑی علاقے میں جدید نیٹ ورک کے ذریعے دھند سے پینے کا پانی حاصل کیا جا رہا ہے۔ اس پروجیکٹ نے مقامی دیہاتوں کی مشکلات کو کم کر کے پانی کی فراہمی کو آسان بنا دیا ہے۔
مراکش کے جنوب مغربی علاقے میں واقع پہاڑی سلسلے اینٹی اٹلس میں ایک ایسا جدید منصوبہ شروع کیا گیا ہے جس نے پانی کی کمی کے شکار دیہی علاقوں کی تقدیر بدل دی ہے۔ 'دار سی حماد' نامی تنظیم کے زیر انتظام یہ منصوبہ ماؤنٹ بوٹمزگویڈا (Mt. Boutmezguida) پر چلایا جا رہا ہے، جہاں دیوہیکل اور خصوصی میش نیٹ نصب کیے گئے ہیں۔ یہ جال سمندر سے اٹھنے والی اٹلانٹک دھند کو اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں، جس سے پانی کے قطرات جمع ہو کر ذخائر میں گرتے ہیں۔ یہ سادہ مگر موثر ٹیکنالوجی قدرت کے وسائل کو انسانی ضرورت میں بدلنے کی ایک بہترین مثال ہے۔ ایک اندازے کے مطابق، ان نیٹ ورک کے ذریعے ہر 24 گھنٹے کے دوران 17 گیلن تک پینے کا صاف پانی حاصل کیا جا سکتا ہے، جو مقامی رہائشیوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ جب دھند سے پانی نیٹ پر جمع ہوتا ہے، تو کششِ ثقل (Gravity) کے ذریعے یہ پانی قدرتی طور پر نیچے واقع دیہاتوں تک پہنچ جاتا ہے، جہاں پہلے خاندانوں کو پانی کے حصول کے لیے میلوں پیدل چلنا پڑتا تھا یا کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑتا تھا۔ اس سسٹم کی بدولت اب خواتین اور بچوں کی زندگیوں میں نمایاں بہتری آئی ہے، کیونکہ اب انہیں پانی لانے کی مشقت سے نجات مل گئی ہے۔ اس منصوبے کی کامیابی نے نہ صرف مقامی لوگوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کیا ہے بلکہ یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ ماحولیاتی اور موسمیاتی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے روایتی اور سائنسی طریقوں کا امتزاج کتنا کارگر ہو سکتا ہے۔ مراکش کا یہ تجربہ دنیا بھر کے ان علاقوں کے لیے ایک ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے جہاں پانی کا شدید بحران پایا جاتا ہے اور جہاں بارشیں کم ہوتی ہیں۔ مقامی حکام اور سماجی تنظیمیں اب اس نظام کو دیگر پہاڑی علاقوں تک پھیلانے پر غور کر رہی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ دیہاتی آبادی کو بنیادی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ یہ پروجیکٹ ماحولیاتی تحفظ اور جدید ٹیکنالوجی کے توازن کی ایک شاندار کہانی ہے، جو یہ باور کراتی ہے کہ انسان اپنی ہمت اور سائنسی سوچ سے قدرت کے چھپے ہوئے خزانوں کو بروئے کار لا سکتا ہے۔